بالغ لڑکی کی مرضی کی شادی نہیں روک سکتے : عدالت

کولکاتا : بین مذہبی شادی پر عرضی کی سماعت میں کلکتہ ہائیکورٹ نے کہا ہیکہ اگر کوئی بالغ اپنی مرضی سے شادی کرے اور مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ بھی کرے نیز اپنے ماں باپ کے گھر واپس نہ ہونا چاہے ،تو اس کے معاملہ میں مداخلت کی قانوناً گنجائش نہیں ہے۔ یہ پٹیشن ایک ہندو خاتون کے والد نے داخل کی تھی جس نے اسلام قبول کرکے ایک مسلم شخص سے شادی کرلی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading