بابری مسجد معاملہ: ’مولڈنگ آف ریلیف‘ کیا ہے اور یہ زیر بحث کیوں ہے؟

نئی دہلی: بابری مسجد – رام جنم بھومی اراضی تنازعہ کی سپریم کورٹ میں سماعت گذشتہ 40 دنوں سے سے چل رہی تھی جو کہ بدھ کے روز مکمل ہو گئی اور اس کے بعد عدالت عظمیٰ نے فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ سماعت شام 5 بجے تک مکمل ہونی تھی لیکن اسے مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ قبل یعنی شام 4 بجے ہی مکمل کر لیا۔ مانا جا رہا ہے کہ 23 دن کے بعد اس معاملہ پر عدالت عظمی کی جانب سے فیصلہ سنا دیا جائے گا، حالانکہ عدالت نے فیصلہ سنانے کے لئے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے اس مقدمہ کی سماعت کی ہے۔

مولڈنگ آف ریلیف

سماعت کے ان 40 دنوں کے دوران لفظ ’مولڈنگ آف ریلیف‘ کافی زیر بحث رہا ہے۔ اس کا التزام سول معاملات سے متعلق مقدمات کے لئے کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ اس حق کا استعمال آرٹیکل 142 اور سی پی سی کی دفعہ 151 کے تحت کرتا ہے۔ دراصل سول معاملات میں درخواست گزار اپنے مطالبے کے ساتھ عدالت پہنچتا ہے اور اگر وہ مطالبہ پورا نہیں ہوتا ہے تو پھر عدالت کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کیا کوئی اور ایسی متبادل راحت ہے جو اسے دی جا سکتی ہے!

بابری مسجد کے معاملہ میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے، جس میں تمام فریق اراضی کی ملکیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں عدالت کو یہ طے کرنا ہے کہ دوسرے فریق کو کیا دیا جا سکتا ہے۔ مسلم فریقین کا کہنا ہے کہ 6 دسمبر 1992 سے پہلے جس حالت میں مسجد وہاں موجود تھی انہیں ویسی ہی مسجد چاہئے جبکہ ہندو فریق کا کہنا ہے کہ وہ رام جنم استھان چاہتے ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading