اےمرد مسلیم تو شاہین ہے بسیرا کرچٹانوں پر

سعیدپٹیل جلگاؤں

آج کے اس پرفتن دور میں عالمی سطح پر دنیا کے کونے کونے میں اگر کوئ پریشان ہوگا تو وہ دوسرا کوئ نہیں بلکہ صرف اور صرف مسلمان ہی ہوگا۔اس کے پاس سب کچھ ہیں۔دستوری زندگی کے ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں تعلیم کے زیورات ہیں۔جس کی چمچماتی چمک میں وہ اپنی زندگی میں چمک دمک پیدا کرسکتا ہےاور پیاسی دنیا کو سیراب کرسکتا ہے۔لیکن وہ بڑے پیمانے پر بیحسی اور انتشار کا شکار ہے۔وہ اپنا پڑھا ہوا سبق بھول چکا ہے۔وہ بھول چکاہےکہ وہ شاہین ہےجو زمین پر بسیرا نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ اونچی اوڑان میں رہتا ہے۔وہ آج قابل تشویش حالات سے گذرکر بھی فی الوقت اپنے اعمال کو درست کرنےکی بجاے اپنی دنیا پرستی میں مست ہے۔؟وہ ابھی اپنےہی بھائ کے خلاف پنجہ آزمائ کررہا ہے۔؟اس کی فکر و نظر دنیاپرست ،مفادپرست کی گمراہی میں غوطہ زن ہے۔؟اس کے مذہب نے تو اسے تعلیم دینے اور بتانے میں کوئ کثر باقی نہیں رکھیں ۔ہم اپنے بھائیوں سے تو دوری بناۓ ہوۓ ہیں لیکن ہمیں اپنا کوئ نہیں چلتا ہے۔؟ہم بنی بنائ زندگی گذاررہیں ہے۔ہم قیمتی دستور حیات اور زندگی گذارنے کےلۓ جو طریقہ بتایا تھا اسے بھولتے جارہے ہیں۔؟اصل میں مرد مومن شاہین ہوتے ہوۓ بھی بھٹک چکا ہے۔؟ہم اپنی غلطیوں کاادراک نہیں کرتے ،اعتراف نہیں کرتے ،اس پر شرمندہ نہیں ہوتے۔

مجموعی طور پر ہماری اونچی اوڑان پنجرے میں قید پرندہ کی طرح ہوتی جاررہی ہےکہ اس کا مقام پنجرا نہیں بلکہ زمین سے بہت دور آسمان نما چٹان ہے۔ہم سب کی ذمہ داری ہےکہ اپنے اندر ملی شعور کوبیدار کریں۔اور اس کی اصل ذمہ داری قوم کے دانشوران اور عالم حضرات پر ہیں۔حالات کی تبدیلی یہ رب کائنات کے نظام کا حصہ ہے۔دنیا اجل سے ایسی ہی چلتی آرہی ہیں۔لیکن زندہ قومیں اور اس کے افراد اپنے آپ کو حالات کے حوالے نہیں کیا کرتےہیں۔ہم اپنی صلاحیتوں سے کام نکالکر شاہین بن سکتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading