ممبئی24 اپریل (ایجنسیز)مہاراشٹرمیں راشٹروادی کانگریس پارٹی(این سی پی ) کے ممبراسمبلی اور قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر جیتندر اوہاڈ کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے، وہ ملک کی فاششٹ طاقتوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں اور انہیں کبھی بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس لیے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر انہیں خاطر خواہ تحفظ فراہم کرے۔
آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کی جانب سے یہ مطالبہ کیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ گوری لنکیش کے قتل کے ملزمین کی گرفتاری کے بعد یہ خبر سامنے آئی تھی کہ جو لوگ اس قتل میں شامل ہیں، وہ جیتندر اوہاڈ کو بھی قتل کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے، لیکن ان کی گرفتاری کے بعد یہ معاملہ منظر سے غائب ہوگیا تھا۔ اب ایک بار پھر الیکشن کی گہماگہمی میں ان فاششٹ طاقتوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں، جس کی بھنک لگتے ہی ڈاکٹر اوہاڈ کی سیکوریٹی کو مزید پختہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس تعلق سے جب ڈاکٹر جیتندر اوہاڈ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے مارنے کی منصوبہ بندی گوند پانسارے کے قتل کے بعد سے ہی تیار کی جارہی ہے، لیکن یہ منصوبہ ساز لوگ ابھی تک اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ گزشتہ چند روز سے ان کی سرگرمیاں مزید بڑھ گئی ہیں مجھ تک جوباوثوق خبریں آرہی ہیں، ان کے مطابق ان فاششٹ طاقتوں کی پہلی کوشش مجھے قتل کرنا یا پھر طویل عرصہ کے لئے جیل میں ڈالنے کا ہے۔ لیکن میں اس سے ذرا بھی خائف نہیں ہوں، جب تک زندگی باقی رہے گی، میں ان فاششٹ طاقتوں کو بے نقاب اور ان کے خلاف آواز بلند کرتا رہونگا۔ ڈاکٹر جیتندر اوہاڈ کا کہنا ہے کہ مجھے ان فرقہ پرست فاششٹ طاقتوں سے کوئی خوف نہیں ہے۔ میری بس ایک بچی ہے، اگر خدانخواستہ مجھے کچھ ہوجاتا ہے تو اس کے سرپر ہاتھ رکھنے والے بہت ہونگے۔ لیکن میں محض اس لئے اپنی آواز نہیں روک سکتا کہ یہ مجھے نقصان پہونچائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فاششٹ نظریات کے حاملین کسی صورت یہ برداشت نہیں کریں گے کہ کوئی ان کی غلط اور ملک دشمن نظریات پر کوئی تنقید کرے اور میں گزشتہ کئی برسوں سے انہیں بے نقاب کرتا آرہا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ لوگ ملک دشمن ہیں اور ملک کی جمہوریت اور سالمیت دونوں کے لئے خطرناک ہیں۔