غریبی ہٹاﺅ نعرہ تقریر کا نہیں بلکہ نافذ کیے جانے کا مسئلہ :فڑنویس

ممبئی25 اپریل (ایجنسیز)مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے آج کہا کہ غریبی ہٹاﺅ کا نعرہ ہمارے لیے کبھی ”بھاشن “ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ عمل آوروی اور نافذ کا مسئلہ ہے ،انہوںنے کانگریس پر الزام عائد کیاہے کہ کانگریس کے لیڈران 50سال سے صرف تقریروں کے ذریعے ہی غریبی کو ختم کرتے رہے ہیں۔ اور آج تک غریبی ہٹانے کے وعدے پر ٹکے ہوئے ہیں ،وزیراعلیٰ آن نندوربارلوک سبھا انتخابی حلقہ میں خطاب کررہے تھے۔
نندوربار حلقہ میں بی جے پی شیوسینا کی امیدوارڈاکٹرحنا گاﺅت ہیں ان کی انتخابی مہم کے دوران شرپوراور پمپل نیر میں جلسے منعقد کیے گئے ،انہوںنے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت کے تحت آج بے شک غریبی ہٹانے کا کام ایمانداری سے جاری ہے۔وزیراعظم ہاوسنگ اسکیم کے تحت غریبوں کو گھر دیئے گئے ہیں ،جبکہ انہیں بیماری کے دوران پانچ لاکھ بیمہ بھی دیا جاتا ہے۔اور اجوالا اسکیم کے تحت غریب گھریلو خواتین کو مفت رسوئی گیس مہیاکرائی جاتی ہے۔

فڑنویس نے کہا کہ مرکزکی مودی حکومت کے ذریعہ ریاستی سرکار کے توسط سے کسانوں کو ہرطرح کی مدد کی جارہی ہے ،جبکہ قحط سالی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے امداد کا سلسلہ جاری ہے۔قرض معافی کے تعلق سے بھی کسانوں کو بپاری امداد دی گئی ہے ،جبکہ مودی جی نے کسانوں کو پینشن دینے کا اعلان کیا ہے ،اس کے ساتھ ساتھ کسانو ںکو کاشتکاری اسکیم کے تحت مدد دینے کا سلسہ جاری رہا ہے ،غیرمنظم صنعتوں کے مزدوروںکو بھی پینشن دی جائے گی اور اسی کو صحیح معنوی میں غریبی ہٹاﺅ قراردیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آدی واسیوں کا حق کم کیا جارہا ہے اور ان کا ریزرویشن بھی ختم کیا جارہا ہے ،اس طرح کی غلط تشہیر کی جارہی ہے۔ڈی بی ٹی جیسے منصوبوںکو نافذ کیاجارہا ہے ،اور ان میں آنے والی رکاوٹ کو دورکیا جائے گا،ریاست میں گرام پنچایت کو دنٹ فراہم کیا جارہا ہے،انہوں نے کہا کہ آدی واسیوں کو بہتر سہولیات مہیارکرانے کے لیے سخت محنت جاری ہے.

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading