گوہاٹی: چیف منسٹر آسام ہیمنت بشواشرما نے چہارشنبہ کے دن اعلان کیا کہ ریاست کے 9 لاکھ سے زائد افراد کو جن کے بائیومیٹرکس کو نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس(این آر سی) کو اَپ ڈیٹ کرنے کے دوران لاک کردیا گیا تھا‘ آدھار کارڈ جاری ہوجائیں گے۔انہو ں نے کہا کہ ان شہریوں کو اسکالرشپ اور دیگر سرکاری فوائد حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا تھا۔
مسئلہ کی یکسوئی کے لئے ہم نے کابینی سب کمیٹی بنائی تھی۔کمیٹی نے رائے دی کہ آدھار کارڈ اور این آر سی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ 2 سال کی مسلسل بات چیت کے بعد مرکز نے فیصلہ کیا کہ آدھار کارڈس جاری کردیئے جائیں
۔چیف منسٹر نے کہا کہ 9 لاکھ 35 ہزار 642 افراد کو آدھار کارڈ مل جائیں گے۔اسی دوران چیف منسٹر نے میگھالیہ کی ایک یونیورسٹی کے مالک پر نشانہ سادھا اور کہا کہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی میگھالیہ کے چانسلر محبوب الحق نے ضلع کریم گنج سے دھوکہ سے او بی سی سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا۔
ضلع انتظامیہ نے یہ سرٹیفکیٹ بعدازاں منسوخ کردیا لیکن محبوب الحق کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔شرما نے کہا کہ میں نے ضلع کمشنر کریم گنج کو ہدایت دی ہے کہ محبوب الحق کے خلاف پولیس کیس درج کرایا جائے۔چیف منسٹر نے حال میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی میگھالیہ پر تنقید کی تھی اور اسے گوہاٹی میں حالیہ سیلاب کے لئے موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔
پاکستانی عیسائی کو سی اے اے کے تحت ہندوستانی شہریت
پنجی: چیف منسٹر گوا پرمود ساونت نے چہارشنبہ کے دن ایک 78 سالہ پاکستانی عیسائی کو شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے) کے تحت ہندوستانی شہریت کا سرٹیفکیٹ حوالہ کیا۔وہ ساحلی ریاست گوا سے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والا پہلا شخص ہے۔ جوزف فرانسس پریرا آزادی سے قبل پڑھنے کے لئے گوا سے پاکستان گیا تھا۔ اسے وہاں نوکری مل گئی تھی۔اس نے پاکستانی شہریت لے لی تھی اور کراچی میں رہ رہا تھا۔ 2013 میں وہ ہندوستان لوٹ آیا تھا۔چیف منسٹر نے کہا کہ گوا کی عورت سے شادی کے باوجود پریرا کو ہندوستانی شہریت حاصل کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔پریرا کی پیدائش 1946 کی ہے۔ اس نے ساحلی ریاست گوا کی ماریہ سے شادی کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد 11 ستمبر 2013 کو ہندوستان آیا۔ چیف منسٹر ساونت نے کہا کہ پریرا گوا کا پہلا شہری ہے جسے یہ سرٹیفکیٹ ملا ہے۔