اپنے بیانات کو لیکر اکثر تنازعات میں رہنے والے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سر براہ اسدالدین اویسی نے ایک بار پھر متنازعہ بیان دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان ایک ہندو ملک نہیں ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔اویسی نے بھاجپا نیتا اور آسام کے وزیر ہمنتا بسوا سرما کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہندوستان کو سبھی ہندوستانیوں کی حفاظت کرنی چاہئے ، صرف ہندوؤں کی نہیں۔ دوقومی نظریہ والے لوگ کبھی نہیں سمجھ سکتے کہ یہ ملک کسی ایک مذہب سے بہت – بہت بڑا ہے ۔ آئین کہتا ہے کہ ہندوستان ہر مذہب ، فرقہ اور جاتی کو مساوی حق دیتا ہے۔ یہ ایک ہندوس راشٹر ملک نہیں ہے اور نہ انشاء اللہ کبھی ہوگا ۔
در اصل اویسی نے آسام میں قومی شہریت رجسٹر( این آر سی ) کو لیکر الزام لگایا تھا کہ مسلمانوں کو باہر کرنے کے لئے اس کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ انکے اس جواب میں ہمنتا نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان ہندوؤں کو تحفظ نہیں دیگا تو کو ن دے گا ؟۔انہوں نے کہاتھا کہ ہندوستان ہمیشہ ان ہندوؤں کے لئے آشیانے کی طرح رہے گا ، جو کسی وجہ سے یہاں سے ہجرت کر گئے ہیں ۔ یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ کتنی مخالفت ہو تی ہے ۔
اویسی نے ایک دوسرے ٹویٹ میں کہا تھا کہ ہندوستان وہ ملک ہے جس نے کئی ستائے ہوئے لوگوں کو اپنا یا ہے ، وہ رفیوجی ہیں ،شہری نہیںہیں۔مذہب کبھی بھی شہریت کی
بنیاد نہیں بن سکتا۔
بتادیں کہ 31اگست کو این آر سی کی جو فہرست جاری ہوئی ہے ، اس میں 19 لاکھ لوگوں کے نام نہیں ہیں۔ اسی کے بعد سے فہرست پر کئی طرح کے سوال اٹھا ئے جارہے ہیں۔
#UrduNewsHIndSamachar #Assam #NRCList #AsadudinOwaisi #HinduNation #TwiiterFight #BJPLeader #HimantaBiswaSarma #AIMIM Asaduddin Owaisii