امریکہ میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر جاری حملوں میں ’ایرانی حکومت کے سینیئر ترین رہنماؤں میں سے 49‘ مارے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں، انھوں نے امریکی آپریشن کے اہداف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن کا مقصد ’اس شدت پسند حکومت سے امریکہ کو لاحق خطرے کو روکنا ہے۔‘
لیویٹ نے مزید کہا کہ ’دہشت گردوں کو مارنا امریکہ کے مفاد میں ہے۔ سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت ایرانی حکومت کے 49 سب سے سینئر رہنما آپریشن ایپک فیوری کے ابتدائی حملوں میں پہلے ہی مارے جا چکے ہیں۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کی مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر حصوں سے امریکیوں کو نکل جانے کی ہدایت دی
امریکی محکمہ خارجہ نے ’سنگین حفاظتی خطرات‘ کے پیشِ نظر امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر حصوں سے فوری طور پر نکل جائیں۔
یہ ہدایت ان شہریوں پر لاگو ہوتی ہے جو بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے، غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود ہیں۔
ایران نے اسرائیل کے کئی علاقوں کی طرف میزائل داغے ہیں، اسرائیلی فوج کا انتباہ اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے کئی علاقوں کی طرف میزائل داغے ہیں۔
پورے ملک میں لوگوں کو پناہ لینے کے لیے فون الرٹس بھیجے گئے ہیں۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام ’خطرے کو روکنے کے لیے کام کر
امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں چھ ہوگئیں: امریکہ کا مقصد ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی تباہی ہے، مارکو روبیو رہے ہیں۔‘
اسرائیلی فضائی حملوں کی نئی لہر
اسرائیلی فوج نے ایران پر فضائی حملوں کا نیا دور شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چند منٹ قبل فوج کے ترجمان نے تہران میں ایرانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے ارد گرد ریڈ زون کو نئے حملوں کا ایک ہدف قرار دیا تھا اور علاقے کے آس پاس کے رہائشیوں سے کہا تھا کہ وہ اس سے دور رہیں۔
اسی وقت، مشرقی تہران، پیروزی اور نرمک گلیوں کے علاقے کے ساتھ ساتھ جنوبی تہران میں نازی آباد کے قریب دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ تین دنوں میں ایران کے مختلف حصوں میں ایک ہزار سے زائد اہداف پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران پر حملوں کے لیے سپین کی سرزمین کے استعمال پر پابندی کے بعد امریکی طیارے وہاں سے روانہ
جنوبی سپین میں روٹا اور مورون کی فوجی چھاؤنیوں سے کئی امریکی طیارے روانہ ہو گئے ہیں، کیونکہ سپین کی حکومت نے واشنگٹن کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے مشترکہ طور پر چلنے والی ان سہولتوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
سپین کے وزیرِ خارجہ خوسے مانوئل الباریس نے کہا کہ سپین اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت کسی ایسے کام کے لیے نہیں دے گا جو ’اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق نہ ہو‘۔
یہ فیصلہ سپین کا کئی یورپی اتحادیوں کے ساتھ اختلاف ظاہر کرتا ہے۔
اگرچہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹے نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ یورپ ایران میں امریکی کارروائی کی ’حمایت‘ کرتا ہے، لیکن سپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے اس اقدام کی مذمت کی ہے جسے انھوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ’یکطرفہ فوجی کارروائی‘ قرار دیا۔