ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ان کی فضائیہ نے تہران میں حکومتی اہداف کو ’شدید طاقت‘ سے نشانہ بنایا ہے۔
سعودی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کو دو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ یہ ایرانی حکومت کو روکنے کا ’آخری اور بہترین موقع‘ تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران پر ’شدید ترین حملے ہونا ابھی آنا باقی ہیں۔‘ایک ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے ’جو بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرے گا، ایران اسے آگ لگا دے گا۔‘ اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر متعدد حملے کیے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ جب تک اس کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا فوجی کارروائیاں ختم نہیں ہوں گی۔
لبنان کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 52 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ بمباری کے نتیجے میں بیروت کے سینکڑوں باشندے پناہ گاہوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
تہران بازار ’ملبے کا ڈھیر‘ بن چکا ہے: ایرانی صحافی نے دارالحکومت میں کیا دیکھا؟

ایران میں موجود صحافی محمد خطیبی نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا ہے کہ ’یہ صرف فوج پر نہیں بلکہ عام شہریوں پر بھی ایک منظم حملہ ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ سنیچر کے بعد دارالحکومت تہران کا ’ہر حصہ‘ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی زد میں آیا ہے۔
خطیبی کے مطابق ان حملوں میں مواصلاتی ٹاورز، نشریاتی ادارے اور تہران کے بازار کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جو کہ اب ’ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔‘
جب ان سے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر ردِ عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو خطیبی نے کہا کہ کچھ ’چھوٹے گروہ‘ جشن منا رہے تھے، لیکن بڑے پیمانے پر کوئی بدامنی دیکھنے میں نہیں آئی۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں ’ایران کے باہر موجود علیحدگی پسند اور اپوزیشن گروہ‘ جلد ہی ایسے مظاہروں کی کال دیں گے جیسے احتجاجی مظاہرے جنوری میں دیکھے گئے تھے۔خطیبی نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں پر تبصرہ کرنے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’حکومت کی تبدیلی ہی اصل منصوبہ تھا، جوہری مسئلہ تو صرف ایک بہانہ تھا۔‘
ایران میں امریکہ، اسرائیل کے حملوں میں 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں: ہلال احمر
ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ میں موجود انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ھرانا کا کہنا ہے کہ اب تک ان حملوں میں 176 بچوں سمیت 742 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ایران کے پارلیمنٹ کے ہیلتھ کمیشن کی رکن فاطمہ محمد بیگی نے پیر کو امریکہ اور اسرائیل پر ملک میں نو ہسپتالوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے تہران میں گاندھی ہسپتال پر حملے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ حملے ’کا ہدف ہسپتال نہیں تھا۔‘
عمان کی بندرگاہ پر ڈرون حملہ

عمان میں دقم کی بندرگاہ پر ایک تیل کی ٹنکی کو ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
ملک کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ’اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان پر قابو پا لیا گیا ہے اور اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘اطلاعات کے مطابق گذشتہ ہفتے بھی اسی بندرگارہ کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔دوسری جانب پیر کو کچھ تنصیبات پر حملے کے بعد قطر میں ایل این جی کی پروڈکشن کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے بھی اپنی سب سے بڑی ریفائنری میں پروڈکشن بند کر دی ہے.
مناب میں سکول پر حملہ: ہلاک ہونے والی طالبات کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی.
ایران کے شہر مناب میں میزائل حملے کا نشانہ بننے والے ایک سکول کی طالبات کی نماز جنازہ مقامی حکام کی موجودگی میں ادا کر دی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سنیچر کی صبح مناب میں شجرہ طیبہ ایلیمنٹری سکول ایک میزائل حملے کا نشانہ بنا۔مناب کے پراسیکیوٹر ابراہیم طاہری کے مطابق لڑکیوں کے اس سکول میں مرنے والے افراد کی تعداد 168 جبکہ 96 زخمی ہیں۔ابراہیم طاہری کے مطابق مرنے اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر طلبہ شامل تھیں۔
ایران امریکہ اور اسرائیل کو اس ذمہ دار ٹھراتا ہے تاہم امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ جانتے بوجھتے ہوئے کسی سکول کو نشانہ نہیں بنا سکتا تاہم امریکی ایجنسیاں اس بات کا تعین کرنے کے لیے تحقیق کر رہی ہیں کہ آیا یہ ہمارے حملے کا نتیجہ تھا۔