اہم خبر: مہاراشٹر میں حکومت نہیں بنائے گی بی جے پی

مہاراشٹر میں حکومت نہیں بنائے گی بی جے پی

بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ وہ مہاراشٹر میں حکومت نہیں بنا رہے ہیں، مہاراشٹر بی جے پی صدر چندركانت پاٹل نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملنے کے بعد کہا کہ ہم ریاست میں حکومت نہیں بنائیں گے، انہوں نے کہا کہ ’’یہ مینڈیٹ ایک ساتھ کام کرنے کے لئے دیا گیا تھا، اگر شیوسینا اس مینڈیٹ کی توہین کرنا چاہتی ہے اور کانگریس این سی پی کے ساتھ حکومت بنانا چاہتی ہے تو ہماری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔

ممبئی میں بی جے پی کور کمیٹی کی میٹنگ دوبارہ شروع،حکومت کی تشکیل پر غور جاری

ممبئی: بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کور کمیٹی کی میٹنگ سہ پہر چاربجے دوبارہ شروع ہوچکی ہے،جس میں نئی حکومت کی تشکیل پر غور کیا جائے گا ، کیونکہ گورنر نے دیویندر فڑنویس کو بی جے پی کے قائدکی حیثیت سے حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی ہے ،اس درمیان شیوسینالیڈراورسربراہ ادھو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ فی الحال بی جے پی کے ساتھ ساتھ اتحاد برقرار ہے اور ہماری کوشش ہے کہ شو سینا کا وزیراعلی اقتدارکی باگ ڈور سنبھال لے۔جبکہ شیوسینا ترجمان سنجے راوت نے بی جے پی کو گورنر کے دعوت نامے کے بعد کہاہے کہ وہ بڑی پارٹی ہونے کے نتیجے میں حکومت تشکیل دے سکتی ہے۔لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی اس فیصلہ کو ہائی کمان کو سونپ دے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ شب سابقہ اسمبلی۔کی مدت ختم ہونے سے محض چار گھنٹے قبل حکومت تشکیل دینے کی دعوت گورنر نے دی تھی۔شیوسینا ناراض گی کے سبب حکومت تشکیل کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔جوکہ ففٹی ففٹی فارمولہ اور وزیراعلی کے عہدہ کی خواہش مند ہے اور بی جے پی انکار کررہی ہے۔اور پندرہ دن کا عرصہ گزر چکا ہے۔

اجیت ڈووال کی رہائش گاہ پر مذہبی رہنماؤں کی میٹنگ

نئی دہلی: ایودھیا میں بابری مسجد ۔ رام مندر تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے ایک دن بعد آج قومی سلامتی کےمشیر اجیت ڈووال کی رہائش گاہ پر مختلف مذاہب کے رہنماؤں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں بابا رام دیو، سوامی پرماتمانند، شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد اور سوامی چدانند سرسوتی سمیت کئی مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مذہبی رہنماؤں ملک میں مذہبی ہم آہنگی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور سماج میں رواداری اور بھائی چارہ پر زوردیا۔ واضح رہے کہ ایودھیا تنازعہ کے فیصلہ کےمدنظر مذہبی تنظیموں ،سیاسی پارٹیوں اور حکومت کی طرف سے لوگوں سے گزشتہ کئی دنوں سے ملک میں امن قائم رکھنے کی اپیل کی جارہی ہے ۔فیصلہ کے بعد اس کا اثر بھی دیکھنے کوملا کیونکہ سبھی فریقوں اور سماجی طبقوں نے سپریم کورٹ کےفیصلہ کا عام طورپر خیرمقدم کیاہے ۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading