دہلی تشدد کے خلاف پارلیمنٹ کے احاطے میں کانگریس ممبران پارلیمنٹ کا مظاہرہ
دہلی تشدد کے خلاف پارلیمنٹ کے احاطے میں مہاتما گاندھی کی مورتی کے سامنے کانگریس ممبران پارلیمنٹ نے مظاہرہ کیا ہے، کانگریس ممبران پارلیمنٹ کا مطالبہ ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ استعفی دیں، اس مظاہرہ میں راہل گاندھی، ششی تھرور اور ادھیر رنجن چودھری سمیت کئی بڑے لیڈر شامل ہوئے۔
کانگریس ارکان پارلیمنٹ نے مودی اور شاہ کا استعفی مانگا
کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے دہلی کے حالیہ تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ احاطہ میں دھرنا دیا اور وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے استعفی مانگا ۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی سمیت کئی ارکان نے وہاں دھرنا دیا اور وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف نعرے لگائے۔
Congress demands resignation of PM and HM pic.twitter.com/j5Wsg2672n
— Syed Khurram Raza (@khoormi) March 2, 2020
پارلیمنٹ میں گونجی امت شاہ کے استعفی کی مانگ، 2 بجے تک کارروائی ملتوی
پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوتے ہی ہنگامہ شروع ہو گیا اور لوک سبھا کی کارروائی 2 بجے تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔اجلاس شروع ہونے سے پہلے عام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے آنکھوں پر کالی پٹی باندھ کر اور ہنوٹوں پر انگلی رکھ کر دہلی تشد د کے خلاف احتجاج درج کرایا۔ ادھر ارکان پارلیمنٹ نے وزیر داخلہ امت شاہ سے دہلی تشدد کے لئے استعفی کا مطالبہ کیا ۔ دہلی کے فرقہ وارانہ تشدد میں اب تک 46 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔
انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما کے خلاف معاملے کی اب 23 اپریل کو ہوگی سماعت
بی جے پی کے رہنما انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ والی پٹیشن پر اب 23 اپریل کو دہلی کورٹ میں سماعت ہوگی، یہ عرضی سی پی ایم لیڈر برندا کرات کی جانب سے درج کرائی گئی ہے، عرضی میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کے خلاف نفرت بھری تقریر کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔
فرانس میں کورونا وائرس کے سبب لوو میوزیم بند
پیرس: کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے فرانس کے مشہور لوو میوزیم کو اتوار کو بند کر دیا گیا۔ اس کے ملازمین نے اس وائرس کے پھیلنے کے پیش نظر ایک خصوصی میٹنگ میں اسے بند کرنے کا فیصلہ لیا۔ یہ اطلاع میڈیا رپورٹ میں دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت نے اس مہلک وائرس کے تیزی سے ہو رہے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے گزشتہ ہفتہ میوزیم میں پانچ ہزار سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی لگا دی تھی۔ ’نیشنل لے پریسين‘ کے مطابق فرانس میں کورونا وائرس سے متاثر لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ملازمین کی صحت کے خدشات کو دیکھتے ہوئے میوزیم کے دروازے اتوار کی صبح بند کر دیئے گئے۔ انتظامیہ نے میوزیم کے عملہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ان کی تشویش جائز نہیں ہے، لیکن میوزیم کے 300 ملازمین میں سے 298 نے اپنے حقوق کا استعمال کرنے کا فیصلہ لیا اور کام کرنے سے منع کر دیا۔ ہیلتھ ڈائریکٹر جنرل جیروم سولومن کے مطابق ملک میں 100 سے زیادہ افراد کوروناوائرس سےمتاثر ہوئے ہیں، جن میں سے دو افراد کی موت ہو چکی ہے۔
نیویارک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس
البانی: امریکہ کے نیویارک میں خطرناک کورونا وائرس کے پہلے کیس کے تصدیق ہوئی ہے۔ نیویارک کے گورنر اینڈریو كوآمو نے ایک بیان جاری کر کے یہ اطلاع دی۔ اینڈریو نے گزشتہ روز کہا ’’نیویارک میں اتوار کی شام کورونا وائرس کا پہلا کیس پایا گیا ہے۔ مریض ایک 30 سالہ خاتون ہے جو حال ہی میں ایران کے دورے پر گئی تھی۔ فی الحال اس کو اس کے گھر پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ مریض کو سانس لینے میں تکلیف ہے لیکن نیو یارک آنے کے بعد سے اس کی صحت ٹھیک ہے اور حالت سنگین نہیں ہے‘‘۔
امریکہ سینٹر فار ڈیسیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک میں اس وقت کورونا وائرس کے 15 معاملات کی تصدیق ہوئی ہے سات دوسرے لوگوں کی جانچ رپورٹ مثبت آنے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ جاپان کے یوکوہاما میں کھڑے ڈائمنڈ پرنسز جہاز سے آئے 47 افراد بھی کورونا وائرس کی زد میں ہیں اور ایک شخص کی اس وائرس کی وجہ سے موت بھی ہوچکی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ عالمی سطح پر پر کورونا وائرس سے اب تک 85000 لوگ متاثر ہوئے ہیں جس سے 2900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریبا 40000 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے چھٹی دی جا چکی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو