اورنگ آباد: (ورق تازہ نیوز) 26 اپریل 2019 کو ادارہ نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ کی تھی جس میں سوشل میڈیا قارئین سے اورنگ آباد اسمبلی الیکشن سے متعلق پوچھا گیا تھا کہ
"کیا کانگریس کو اورنگ آباد جیسے مسلم آبادی والے تاریخی شہر سے کسی باشعور اور تعلیم یافتہ مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینا چاہئے ؟ ”
الحمد اللہ ورق تازہ کے فیس بک فالوورز میں سے بیشتر نےاپنی رائے کا اظہار کیا. محمد اظہر الدین مظفر الدین کے کمینٹ کو سب سے زیادہ پسند کیا گیا انھوں نے لکھا.
کانگریس سے ٹکٹ دے کر کسی غیر مسلم امیدوار کو فائدہ پہنچانا مقصود ہو تو بالکل ملنا چاہیے… ورنہ یہاں کی ہوا فی الوقت مجلس کے لیے سازگار ہے…. کانگریس سے مسلم امیدوار کی کوئی ضرورت نہیں

ایک دوسرے سوشل میڈیا صارف عظیم رضوی نے کہا
یقینا دینا چاہئے۔مگر جہاں سے مجلس کا امیدوار منتخب ہوا ہے اس جگہ سے نہیں ۔بلکہ دوسری سیٹ سے تاکہ دونوں امیدوار مسلم کے چن کر آئیں۔
ادیب نے کہا کہ "یہ ایک بہت اچھی پہل ہے اللہ پاک ذہن سازی کرے قوم کو مناسب قیادت کیلئے اس پوسٹ کو نیم کا پتھر بنانے "

صارفین کا ملا جلا رد عمل رہا کسی نے کہا یقیناً مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینا چاہئے تو کسی نے کہا اورنگ آباد میں اگر کانگریس مسلم امیدوار کھڑا کرتی ہے تو اس کا راست نقصان مجلس اتحاد المسلمین کو ہوگا. کیوں کہ یہاں پہلے سے ہی اورنگ آباد سینٹرل سیٹ پر امتیاز جلیل منتخب ہیں اور ایسٹ سیٹ سے بھی گذشتہ اسمبلی انتخابات میں مجلسی امیدوار جیت سے بہت قریب رہے ہیں اور دوسرا مقام حاصل ہوا تھا.

دیگر صارفین کی رائے اسطرح ہیں.
"ضرور ھونا چاہئےاس میں کوئی شک نہیں کیوں کہ مسلمانوں کا بھی حق ہےاس دیش کیلئے مسلمانوں نے بھی اپنے جان کی بازی لگائ ہے. بلکہ ہر ضلع میں حصہ برابری کا ہو نا چائے.”
عبدالحسیب
musalman sare mulk me secularusm ku bachane k liye na sirf kushish kar rahe balke apne vote congress or dusri ilaqai secular parties k haq me istemal kar rahe hae..aese me congress party k zimmedaru ki zimmedari ye banti hae wo bhi secularusm ki baqa k liye jaha ilaqai party strong hae waha ummidwar na utarkar secularsum k alambardar bane nake bjp ki jeet ki raha hamwar kare … jaha tak aurangabad ki bat hae aaj waha mim strong hae.. 3 constituency per mim ne guzishta assembly k aam inteqabat me acha muzahera kiya tha jaha ek seat per use kamyabi mili or dusri seat per bahut kam margin se haar mili or aaenda election me mumkin hae mim wo seat bhi jeet jae.. isliye meri zati rae ye hae k congress waqi muslim samajh ki political pasmandagi ku lekar sanjeeda hae tu use chahiye k nanded jaese shaher se jaha se congress k state presindent taluq rakhte hae or muslim aabadi bhi maqul hae aese shaher se muslim ummidwar ku ticket dekar kamyab karae….mujuda daur me yahi secularisum ki baqa k liye zaruri hae..
Adv. Mohd. Inamur Rehman
"یقیناً دینا چاہیے اور یہ تب ممکن ہو سکتا ہیں جب مہاراشٹرا گانگریس کمیٹی کا صدر سنگھی ذہنیت کا نہ ہو !”
مکمل پوسٹ اور کمینٹس مندرجہ ذیل لنلک پر دستیاب ہے. ورق تازہ کے فیس بک قارئین کا اپنی رائے دینے کیلئے شکریہ..
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1113029402238616&id=964868220388069