خلاصہ
کروڑوں امریکی شہری تین نومبر کو 59ویں صدارتی انتخاب میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں جبکہ نو کروڑ امریکی انتخاب کے دن سے پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔
امریکہ میں کووڈ 19 کی وبا کے باعث بڑی تعداد میں امریکی عوام نے قبل از انتخاب ووٹ ڈالنے کو ترجیح دی ہے اور توقع ہے کہ ایک صدی میں ووٹ ڈالنے والوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہوگی۔
امریکہ میں ہونے والی قومی انتخابی جائزوں کے اعداد وشمار کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار، 77 سالہ جو بائیڈن کو موجودہ صدر اور رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل ہے۔
74 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش ہوگی کہ وہ جارج بش سینیئر کی تقلید نہ کریں۔ سنہ 1992 میں جارج بش سینئیر آخری امریکی صدر تھے جو صرف ایک دور کے لیے صدر بنے۔
یہ انتخاب ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے روزانہ ہزار سے زیادہ افراد کی موت ہو رہی ہے اور ملک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ تیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
ووٹنگ کا سلسلہ امریکہ میں منگل کی صبح شروع ہوگا اور ملک کے مشرقی حصے میں گرینچ ٹائم کے مطابق رات 11 بجے تک ووٹنگ بند ہو جائے گی جبکہ الاسکا میں گرینچ وقت کے مطابق بدھ کی صبح چھ بجے تک ووٹنگ کا وقت ہے۔
اس الیکشن میں ایک تہائی امریکی یعنی لگ بھگ دس کروڑ شہری پہلے ہی ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے جس کی وجہ سے خیال ہے کہ اس بار ووٹر ٹرن آؤٹ غیر معمولی طور پر زیادہ دیکھنے میں آئے گا۔
منگل کو پولنگ کا آغاز امریکی ریاست ورمانٹ میں پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر تین بجے سے ہو گیا۔ امریکا چونکہ ایک بہت بڑا ملک ہے اس لیے ملک کے مغربی حصوں میں پولنگ ختم ہونے اور الیکشن نتائج آنے میں وقت لگے گا۔
ایک غیر معمولی الیکشن
یہ انتخابات غیر معمولی حالات میں ہو رہے ہیں۔ کورونا کی عالمی وبا کے باعث سال دو ہزار بیس دنیا کے لیے پریشان کن سال ثابت ہوا۔ لیکن امریکا اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
ساتھ ہی نسلی تعصب کے خلاف تحریک نے ملک میں بے چینی پیدا کر دی اور مختلف شہروں میں لوٹ مار کے واقعات دیکھے گئے، جس نے صدر ٹرمپ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا۔
اس سال جنوری تک صدر ٹرمپ پر یہ اعتماد کیا جا رہا تھا کہ معاشی میدان میں بہتر کارکردگی کے باعث وہ دوبارہ الیکشن جیت جائیں گے۔ لیکن کئی مبصرین کی رائے میں امریکی معیشت میں زبردست گراوٹ کے بعد اب ان کا سیاسی مستقبل کھٹائی میں دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر صدر ٹرمپ واقعی الیکشن ہار جاتے ہیں تو وہ نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر سکتے ہیں، جس سے انتقال اقتدار کا مرحلہ بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔
بعض شہروں میں ان کے حمایتی سڑکوں پر بھی آ سکتے ہیں۔ دارالحکومت واشنگٹن اور نیویارک سے اطلاعات ہیں کہ ممکنہ ہنگاموں کے مدنظر کاروباری علاقوں میں لوگوں نے اپنے دفاتر اور دوکانیں بند کرکے سکیورٹی بڑھا دی ہے۔
صدر کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟
امریکا کا صدارتی الیکشن ایک قدرے پیچیدہ مرحلہ ہے۔ ہار جیت کا دارومدار عام شہریوں کے ووٹوں سے زیادہ ہر ریاست سے منتخب ہونے والے "الیکٹرز” پر ہوتا ہے، جو بعد میں صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔
ہر ریاست سے ان "الیکٹرز” کی تعداد وہاں سے منتخب ہونے والے اراکین کانگریس کے برابر ہوتی ہے۔
538 ارکان پر مشتعمل اس گروپ کو "الیکٹرل کالج” کہا جاتا ہے۔ اس گروپ کی اکثریت یعنی 280 میمبر جس امیدوار کی حمایت کرتے ہیں وہ ملک کا صدر قرار پاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پچھلی بار سن دو ہزار سولہ کے صدارتی الیکشن میں ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کو الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ سے لگ بھگ تیس لاکھ زائد ووٹ ملے لیکن "الیکٹرل کالج” میں ناکافی ووٹوں کی وجہ سے وہ صدارتی انتخاب نہ جیت سکیں۔
وہ ریاستیں جہاں ہار جیت کا فیصلہ ہو گا
یوں تو الیکشن میں ہر ووٹ کی اہمیت ہوتی ہے، لیکن "الیکٹرل کالج” کے نظام میں بعض ریاستوں کا ووٹ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس الیکشن میں بھی بعض ریاستیں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں کہ ملک کا آئندہ کا صدر کون ہو گا۔ ان ریاستوں میں ایریزونا، نواڈا، ٹیکساس، فلوریڈا، جورجیا، نارتھ کیرولینا، پینسلوینیا، اوہائیو، مشیگن اور وسکانسن شامل ہیں۔