امریکہ کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: نائب صدر جے ڈی وینس

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ یہ معاملہ وہ آج برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی کے ساتھ ملاقات میں زیر بحث لائیں گے۔جے ڈی وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ "ہمارے پاس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ فعال حکومت کے بغیر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ تسلیم کرنے کا مطلب کیا ہوگا”۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اہداف اور ترجیحات کے بارے میں انتہائی واضح ہیں اور وہ ان پر عمل جاری رکھیں گے۔نائب صدر جے ڈی وینس برطانوی وزیر خارجہ سے چیوننگ ہاؤس میں ملاقات کریں گے، جو جنوبی انگلینڈ میں واقع وزیر خارجہ کی دیہی رہائش گاہ ہے۔ یہ ملاقات ان کے اہل خانہ کے ساتھ برطانیہ کے دورے کے آغاز پر ہوگی۔

عالمی سطح پر فلسطین کی حمایت
اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے تقریباً 144 فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں، جن میں بیشتر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ روس، چین اور بھارت شامل ہیں۔ تاہم یورپی یونین کے 27 میں سے صرف چند رکن ممالک جن میں زیادہ تر سابق کمیونسٹ ریاستیں، سویڈن اور قبرص شامل ہیں فلسطین کو تسلیم کرتے ہیں۔

گذشتہ ماہ جولائی میں فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے فلسطینی صدر محمود عباس کو خط لکھ کر اس بات کا عزم ظاہر کیا تھا کہ فرانس فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے آگے بڑھیں گےاور دیگر شراکت داروں کو بھی اس پر آمادہ کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس فیصلے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔فرانس اس معاملے پر مؤقف بدلنے والی پہلی بڑی مغربی طاقت ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال اسپین، آئرلینڈ اور ناروے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading