امرتسر، پٹھان کوٹ اور سری نگر میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات، جموں اور پونچھ سیکٹر میں حالات مذید کشیدہ ملک میں 32 ائیر پورٹس مسافر پروازوں کے لیے عارضی طور پر بند

انڈین فوج کی کرنل صوفیہ قریشی نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان نے گذشتہ رات 300 سے 400 ڈرونز کے ذریعے دراندازی کی کوشش کی جن میں ترک ساختہ ڈرون بھی شامل تھے۔‘

انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے پیش نظر انڈین پریمیئر لیگ کے میچز ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ پی ایس ایل کو متحدہ عرب امارات میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

گذشتہ شب انڈیا نے پاکستان پر اپنے تین فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کا الزام لگایا تھا جس کی اسلام آباد نے تردید کی تھی۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک پاکستان نے انڈیا کے 77 ڈرونز مار گرائے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان نے پانچ انڈیا طیارے گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ انڈّیا نے تاحال اس پر تبصرہ نہیں کیا۔

عالمی رہنماؤں نے دونوں ملکوں سے تحمل اور تناؤ میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ سے ‘ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔’

بھارت میں 32 ائیر پورٹس مسافر پروازوں کے لیے عارضی طور پر بند

انڈیا کی سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) نے رپورٹ کیا ہے کہ انڈیا کے سول ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے ہے کہ ملک کے 32 ائیرپورٹس کو عارضی طور پر 15 مئی تک مسافر پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

شیئر, انڈیا میں 32 ائیر پورٹس مسافر پروازوں کے لیے عارضی طور پر بند

انڈیا کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بارہمولہ سے بھوج تک 26 مقامات پر مشتبہ ڈرون دیکھے گئے ہیں۔ یہ مشتبہ مسلح ڈرون شہریوں اور فوجی اہداف کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انڈین وزارت دفاع کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مشتبہ ڈرونز انڈیا کے زیر انتظام کشمیر علاقے بارہمولہ، سری نگر، اونتی پورہ، نگروٹہ، جموں سمیت انڈین کے شہروں فیروز پور، پٹھانکوٹ، فاضلکا، لال گڑھ جٹہ، جیسلمیر، بارمیر، بھوج، کواربیٹ اور لکھی نالہ کے قریب بین الاقوامی سرحد اور پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر دیکھے گئے ہیں۔

انڈین وزارت دفاع کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسی طرح کے ایک مشتبہ ڈرون نے انڈیا کے علاقے فیروز پور میں ایک شہری علاقے پر حملہ کیا۔ اس حملے میں کئی مقامی افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے اور سکیورٹی فورسز علاقے کی تلاشی لے رہی ہیں۔

انڈیا کی وزارت دفاع نے یہ بھی کہا کہ ’انڈین مسلح افواج چوکس ہیں اور ایسے تمام فضائی خطرات سے ڈرون شکن سسٹم کے ذریعے نمٹا جا رہا ہے۔ ہم ہر صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت کے مطابق فوری کارروائی کی جا رہی ہے۔‘

انڈین وزارت دفاع نے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو گھر کے اندر رہنے اور مقامی طور پر جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کا کہا ہے۔

انڈین پنجاب کے مختلف سرحدی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ہیں۔

پٹھان کوٹ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جگل پروہت نے بتایا ہے کہ انھوں نے اور ساتھی کیمرہ مین انتارکش جین نے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی اور آسمان میں روشنی دیکھی۔

بی بی سی نامہ نگار کے مطابق ’انڈین فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈرونز سے حملے ہوئے ہیں اور ان ڈرون کو مار گرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہر طرف بلیک آؤٹ ہے۔‘

امرتسر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار رویندر سنگھ رابن نے بتایا کہ ’شہر میں یکے بعد دیگرے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس کے ساتھ ہی ڈرونز بھی دیکھے گئے اور ایئر فورس سٹیشن کے قریب فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ تاہم حکام نے کہا ہے کہ اب تک اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔‘

دریں اثنا بی بی سی کے نامہ نگار راگھویندر راؤ جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے پونچھ سیکٹر کے قریب سورنکوٹ میں موجود ہیں، نے رپورٹ کیا ہے کہ ’کل اور آج پونچھ میں شدید گولہ باری ہوئی جس میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم سورنکوٹ ایل او سی سے تھوڑا دور ہے اور یہاں گولہ باری کا زیادہ اثر نہیں ہوا ہے۔‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے جموں میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار دویا آریہ نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے مطابق وہاں بھی دھماکے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’علاقے میں خاموشی ہے، لوگ گھروں میں ہیں دن میں حالات معمول پر تھے، بازاروں میں لوگ نظر آئے، لیکن شام ہوتے ہی حالات کشیدہ ہو گئے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار ماجد جہانگیر، جو انڈیا کے زیر انتظام کشیمر کے علاقے سری نگر میں موجود ہیں نے کہا ہے کہ ’سرینگر اور اونتی پورہ میں کئی دھماکے سنے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خطے کے بیشتر علاقوں میں بجلی نہیں ہے۔‘

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading