الہ آباد ۔شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے اب نئے نئے طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔خاص طور سے احتجاج میں شامل طلبا اور نوجوان اس معاملے میں پیش پیش ہیں۔ الہ آباد کا روشن باغ شہریت قانون کے خلاف احتجاج کی ایک علامت بن چکا ہے ۔ یہاں نوجوانوں نے اپنے خون سے احتجاج کی نئی عبارت لکھی ہے ۔ نوجوانوں نے ایک ایسا پوسٹر بنایا ہے جس میں شہریت قانون کی مخالفت میں نعرے اپنے خون سے تحریر کئے ہیں ۔
روشن باغ میں جاری شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاجی دھرنا 16 ویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ روشن باغ کے منصور علی پارک میں ہزاروں خواتین دن رات احتجاجی دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں ۔شہریت مخالف نعروں اور تقریروں کے ساتھ ساتھ جذباتی نظموں اور ترانوں نے بھی احتجاجی دھرنے کا ماحول بدل دیا ہے ۔ اسی درمیان خون کا عطیہ دینے والے نوجوانوں کے ایک گروپ نے اپنے خون سے ایک بینر تیار کیا ہے ۔ اس بینر میں شہریت قانون اور این آر سے کے خلاف نوجوانوں نے خون سے نعرے تحریر کئے ہیں ۔