السنوار کا حماس کی قیادت سنبھالنے کے بعد غزہ میں جنگ بندی مذاکرات کا مستقبل کیا ہوگا؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ 31 جولائی کو تہران کے قلب میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل نے غزہ کی پٹی میں پہلے سے ہی ناکام جنگ بندی کے مذاکرات کو منجمد کر دیا۔تاہم غزہ کی پٹی میں حماس کے رہ نما یحییٰ السنوار کی ہنیہ کی جانشینی کے لیے تقرری نے ان مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ مبصرین کا خیال ہےکہ السنوار کے حماس کی قیادت سنھبالنے کے بعد اب تک جنگ بندی کی جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں انہیں رائے گاں کردیا۔

اس پیش رفت نے بہت سے مغربی اور عرب ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اسرائیل السنوارجسے اس نے دہشت گرد قرار دیا ہے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے گا؟اسرائیلی وزیرخارجہ یسرائیل کاٹزنے السنوار ایک بڑا دہشت گرد قرار دیا اور اس کے خاتمے اور ختم کرنے پر زور دیا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگاری نے کہا کہ یحییٰ السنوار کے لیے ایک جگہ ہے جس کا اسرائیل نےانتظام کیا ہے۔ ان کا اشارہ قبر کی طرف تھا۔اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق السنوار کا انتخاب اسرائیل کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ زندہ ہے اورغزہ میں حماس کی قیادت اپنی جگہ پر ہے”۔بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ حماس نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے واپسی کی کوئی بھی لائن ختم کر دی ہے۔

لیکن امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی رائے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ السنوارغزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے حوالے سے بنیادی فیصلہ سازتھا اور رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ حماس کے سیاسی بیورو کے نئے سربراہ کواسرائیل کے ساتھ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا فیصلہ کرنا ہوگا۔دوسری جانب حماس کے ایک سینیر عہدیدار نے منگل کو السنوار کی تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم "قابض ریاست کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے کہ حماس مزاحمت کا راستے پر گامزن ہے”۔

مغربی کنارے میں قائم فلسطینی سینٹر فار پالیسی اینڈ سروے ریسرچ کے سیاسی تجزیہ کار جہاد حرب نے کہا کہ حماس یہ پیغام دے رہی ہے کہ وہ مسلح مزاحمت کے نقطہ نظر کے پیچھے اسٹریٹجک طور پر کھڑی ہے اور السنوار کو غیر متنازعہ رہ نما کے طور پر اپنا سربراہ مانتی ہے۔

متعدد عرب ثالثوں کا خیال ہے کہ یہ قدم جنگ بندی کے مذاکرات کو پیچیدہ بناتا ہے، خاص طور پر چونکہ السنوار کا ٹھکانہ بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہے اور وہ حماس کے سیاسی عہدیداروں سے بات چیت کیے بغیر دن گذارتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading