اردھا پور میں عالمات کی نشست

اردھا پور میں عالمات کی نشست

مجلس العالمات کی ریاستی شوری کی رکن فہمیدہ فردوس صاحبہ کا خطاب

اردھاپور ( شیخ زبیر )

عالمات کی ریاستی تنظیم مجلس العالمات کی ریاستی شوری کی ممبر محترمہ فہمیدہ فردوس صاحبہ کی اردھاپور آمد کے موقع پر اردھاپور شہر کی عالمات کی ایک اہم نشست مدرسہ جامعۃ الصالحات اردھا پور لی گئی۔ اس پروگرام کا انعقاد جماعت اسلامی ہند کی ملک گیر مہم " اخلاقی محاسن ۔ آزادی کے ضامن" کے ضمن میں کیا گیا تھا۔ پروگرام کا آغاز درس قرآن سے ہوا جسے جامعہ کی معلمہ عظمی آرا نے پیش کیا۔ اس کے بعد حلقہ خواتین کی مقامی ناظمہ ماہ متین خانم نے علما کی فضیلت پر درس حدیث پیش کیا۔

جامعۃ الصالحات اردھا پور کی صدر معلمہ اور مہم کنو ینر عرفی صدیقہ صاحبہ نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے مہم کی غرض و غایت پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور حالات حاضرہ میں عالمات کی ذمہ داریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے عالمات کو مجلس العالمات سے منسلک ہو کر دین کی خدمت کرنے کی اپیل کی انہوں کہا کہ آج معلومات کی کمی نہیں ، دین اور دنیا کی ساری معلومات آج ہماری انگلیوں کی ہلکی سی جنبش سے ہمارے سامنے آجاتی ہیں لیکن اخلاق و کردار اور تربیت اب تا پید ہوتی جا رہی ہے یہی وقت ہے کہ علم والے اپنا فرض ادا کریں اور سماج اور معاشرہ کو برائیوں سے نکال کر اخلاقی محاسن سے آراستہ کرائیں۔

مہمان خصوصی محترمہ فہمیدہ فردوس صاحبہ نے اپنے اثر انگیز خطاب میں شرکا کی رہنمائی فرمائی ۔ موصوفہ نے موجودہ حالات پر گفتگو کرتے ہوئے آج کی برائیوں کا تذکرہ کیا۔ مغرب کے ہتھکنڈوں اور سازشوں پر سیر حاصل معلومات فراہم کی۔ جن برائیوں نے آج معاشرہ کے سکون کو برباد کر دیا ہے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سد باب ہم عالمات کی اولین ذمہ داری ہے اور عالمات کی آج بہت ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمات کو باب اپنے آپ کو بھی سنوار نے اور نکھارنے کی ضرورت ہے۔ آپ کی سیرت کو اپنے لیے اسوہ بنا کر ہمیں اپنے کردار سے لوگوں کو متاثر کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ بہت سے جگہ عالمات بچیوں کے برتاو اور کردار کی شکایتیں سننے کوملتی ہے سسرال میں ان کے اس رویہ کہ باعث بعض جگہ لوگ عالمہ کو بیاہ کر گھر لانے کے لیے ترجیح نہیں دے رہے ہیں۔ اس پر عالمات کو غور کرنے کی ضرورت ہے تا کہ معاشرہ ہمارے کردار سے ہمیں پہچانے۔

اس پروگرام میں عالمات اور عالمیت کی طالبات کی تعداد پچاس تھی اسکے علاوہ دیگر خواتین نے بھی پروگرام میں شرکت کی جن کی تعداد دس تھی۔ مدرسہ کی طالبہ تسنیم بیگم نے ترانہ پیش کیا اور نظامت کے فرائض مدرسہ کی معلمہ جبین بیگم صاحبہ نے انجام دیے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading