آسام میں زمینوں پر قبضہ کا بہت بڑا کھیل جاری ہے: چیف منسٹر آسام

گوہاٹی: چیف منسٹر آسام ہیمنت بشواشرما نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں عورتوں کے خلاف جرائم کے حالیہ واقعات زمینوں پر قبضہ اور آسامی عوام کی شناخت کو خطرہ میں ڈالنے کے بڑے کھیل کا حصہ ہے۔انہوں ایسے جرائم کو سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کا اشارہ دیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پیسے کی طاقت آسامی عوام کے ہاتھوں سے نکل کر دوسروں کے پاس جارہی ہے۔

چیف منسٹر نے ہفتہ کی شام پریس انٹرایکشن میں کہا کہ کوئی بھی سماج/ معاشرہ کامل و اکمل نہیں ہوتا۔ عورتوں کے خلاف جرائم ایک حقیقت ہیں۔ گزشتہ 3 سال میں ریاست میں یہ جرائم کم ہوئے ہیں، لیکن حالیہ واقعات کے پیچھے بڑا کھیل چل رہا ہے۔ عصمت ریزی جیسے جرائم کے ذریعہ ہماری زمینوں اور تہذیب کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آسام میں گزشتہ 30-35 سال سے یہ کھیل جاری ہے۔ اسی لئے آسام احتجاج ہوا تھا۔ وہ 1979ء میں بنگلہ دیش کے غیرقانونی امیگرینٹس کے خلاف 6 سال طویل تحریک کا حوالہ دے رہے تھے۔ شرما نے دعویٰ کیا کہ عورتوں کے خلاف جرائم کے ذریعہ زمینوں پر قبضے کی بڑی سازش ہورہی ہے۔

ڈھنگ میں متاثرہ لڑکی کے ارکانِ خاندان نے مجھے بتایا کہ وہ اب وہاں رہنا نہیں چاہتے۔ لوگ اپنی جائیدادیں بیچ کر دوسرے مقامات کو منتقل ہورہے ہیں۔ 5لاکھ روپے کے پلاٹ کے لئے انہیں 50لاکھ روپے کی آفر کی جارہی ہے۔ناگاؤں کے ڈھنگ علاقہ میں جمعرات کی شام 3 افراد نے ایک 14سالہ لڑکی کی مبینہ عصمت ریزی کی تھی، جس پر بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔ چیف منسٹر نے دعویٰ کیا کہ ایک پیٹرن کے تحت کام ہورہا ہے۔ پہلے ایک یا دو لوگ گاؤں میں گھر لیتے ہیں۔ بعد ازاں وہ بیف کھانا شروع کردیتے ہیں۔

پڑوسیوں کو اس سے بے چینی محسوس ہوتی ہے اور وہ علاقہ چھوڑ کر جانے لگتے ہیں۔ بارپیٹا، منگل دائی اور دیگر مقامات پر یہ ہورہا ہے۔ پچھلے چیف منسٹرس اِس پر نہیں بولتے تھے، لیکن میں بول رہا ہوں۔ کسی دن میری زندگی خطرہ میں پڑسکتی ہے، لیکن میں یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ یہ کہنا میرا فرض بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سارا کھیل پیسہ کا ہے۔ فینانشیل پاور آسامیوں کے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔ انہوں نے کسی کمیونٹی کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجرموں کو عدالت میں بہترین وکیل مل جاتے ہیں۔ متاثرین کے کنبوں کو پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے اچھے وکیل نہیں ملتے۔چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت نے اب بعض علاقوں میں زمینوں کے تحفظ کا قانون بنایا ہے۔ شرما نے کہا کہ ان کے خیال میں سیاسی سرپرستی نہ ہوتو ایسے واقعات گھٹ جائیں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading