کویت کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ’پیر کی صبح متعدد امریکی جنگی طیارے گِر کر تباہ ہوئے ہیں‘ اور اُن پر سوار پائلٹس محفوظ رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور پیر کے روز اسرائیل اور خلیجی شہروں بشمول دبئی، ابوظہبی، دوحہ اور کویت پر میزائل اور ڈرونز داغے گئے ہیں جبکہ ایرانی رہنما علی لاریجانی نے مذاکرات کی اطلاعات کو مسترد کیا ہے
کویت کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح ملک میں متعدد امریکی جنگی طیارے گِر کر تباہ ہوئے ہیں۔
اس کا کہنا ہے کہ جہازوں کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور انھیں طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ کویتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے اپنے امریکی اتحادی سے طیارے گِرنے کی وجوہات کے حوالے سے تعاون کیا جا رہا ہے۔
اس کے مطابق طیارے گِرنے کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔امریکی چینل سی این این کے مطابق گذشتہ روز کویت میں واقع علی السلیم ہوائی اڈے کے قریب ایف 15 جنگی طیارہ گِر کر تباہ ہوا تھا.
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران ’عمان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔‘ اس حوالے سے علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا: ’ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔‘
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی اٹلانٹک سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے آمادگی کے آثار ظاہر کیے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ بات کرنا چاہتے ہیں اور میں بات کرنے پر راضی ہو گیا ہوں، اس لیے میں ان سے بات کروں گا۔ انھیں یہ کام جلد کرنا چاہیے تھا۔‘
ایران پر حملے کے لیے امریکہ پر دباؤ نہیں ڈالا: سعودی ترجمان
واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کے ترجمان فہد ناظر نے اخبار واشنگٹن پوسٹ کی اس خبر کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر اُکسایا۔
نذیر نے ایکس پر کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں کے ذریعے معاہدہ کرنے کی حمایت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ رابطوں کے دوران ان پر کوئی دوسری پالیسی اپنانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ کی خبر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب نے کئی ہفتوں تک ایران پر حملے کے لیے لابی کی تھی۔