قبلقطر کا تہران سے حملے روکنے کا مطالبہ: ’ایران اپنے پڑوسیوں کو ایسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے جس سے ان کا تعلق نہیں‘

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے اور تہران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے آغاز کے بعد قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے پہلی مرتبہ اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کو فون کیا ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد، ایران نے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں جس پر عرب ممالک تہران سے کافی ناراض ہیں۔

ایران نے اب تک متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان سمیت خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔

قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، الثانی نے عراقچی کے اس دعوے کو ’صاف الفاظ میں مسترد‘ کیا کہ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کا نشانہ امریکی مفادات تھے نہ کہ قطر کی ریاست۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ایران ’اپنے پڑوسیوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور انھیں ایک ایسی جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے‘۔

قطری وزیرِ خارجہ نے ایران سے حملے ’فوری طور پر روکنے‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کے روز ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہمسایہ خلیجی ممالک سے کہا تھا کہ ایران کے پاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading