سوچئے… کروڑوں اور اربوں کی دولت، شاہانہ محل، وسیع بزنس ایمپائر—اور پھر بھی ایک باپ کہے کہ اس کا بیٹا ہوٹل میں برتن دھوتا رہا۔ سننے میں عجیب لگتا ہے نا؟ لیکن حقیقت یہی ہے۔
یو اے ای کے مشہور عرب بزنس ٹائیکون خلفان الخلیفہ الحبتور نے اپنی ایک ایسی کہانی سنائی ہے جس نے پورے انٹرنیٹ پر ہلچل مچا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “کیریئر صرف ڈگری سے نہیں بنتا، اصل سیکھ میدانِ عمل میں ملتی ہے۔”
ارب پتی کاروباری شخصیت کی حیران کن بات
الحبتور گروپ کے چیئرمین اور عالمی سطح پر معروف بزنس مین خلف الحبتور کا شمار دبئی کے سب سے بااثر افراد میں ہوتا ہے۔ ان کا کاروبار ہوٹلز، رئیل اسٹیٹ، آٹوموبائل، ایجوکیشن اور پبلشنگ سمیت کئی شعبوں میں پھیلا ہوا ہے۔ ان کے گروپ نے اب تک 2 ارب درہم سے زائد عطیات بھی دیے ہیں۔ ایسے شخص کی بات کو دنیا یقینی طور پر سنجیدگی سے لیتی ہے۔
“میرا بیٹا بھی ہوٹل میں برتن دھوتا تھا” — الحبتور کا انکشاف
ایک اوپن ٹاک پروگرام میں خلف الحبتور نے بتایا کہ انہوں نے کبھی اپنے بیٹے کو براہِ راست ڈائریکٹر کی کرسی پر نہیں بٹھایا۔
بیٹے کی ہاسپٹلٹی مینجمنٹ کی ڈگری مکمل ہوئی تو پہلا کام ملا — ہاوس کیپنگ اور ڈِش واشنگ۔
الحبتور نے کہا:
“گراؤنڈ ورک سیکھے بغیر کوئی مینیجر نہیں بن سکتا۔ کام کا اصل مزہ نچلی سطح سے شروع کرنے میں ہے۔”
ان کے مطابق، ان کے بیٹے نے ہوٹل کے کمرے صاف کیے، برتن دھوئے، پھر آہستہ آہستہ ترقی کرتے ہوئے مڈ لیول مینجمنٹ تک پہنچا۔ یہی عملی تربیت اسے مضبوط اور قابل بناتی ہے۔
“تجربہ ڈگری سے زیادہ اہم ہے” — الحبتور کا پیغام
خلیج ٹائمز کے مطابق، الحبتور نے نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا:
“ڈگری ضروری ہے، مگر تجربہ اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اصل انجینئرنگ، اصل مینجمنٹ اور اصل کام میدان میں اتر کر ہی سیکھا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ صرف کتابیں پڑھ کر کوئی پروفیشنل نہیں بنتا، عملی زندگی میں جو سیکھ ملتی ہے، وہی کسی بھی نوجوان کے مستقبل کو مضبوط بناتی ہے۔
یہ کہانی ہزاروں نوجوانوں کے لیے ایک سبق ہے کہ کامیابی کا راستہ سیدھا مینجر کی کرسی سے نہیں، بلکہ محنت اور تجربے سے ہو کر گزرتا ہے۔