بحرین میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز پھیلانے کے الزام میں گرفتار پانچ پاکستانیوں کو ’سخت سزاؤں‘ کا سامنا

بحرین کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز بنانے اور انھیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں پانچ پاکستانی شہریوں سمیت چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتار ہونے والوں کے نام محمد معز اکبر (پاکستانی)، افضل خان (پاکستانی)، احمد ممتاز (پاکستانی)، محمد اسرافیل میر (بنگلہ دیشی)، ارسلان علی ساجد (پاکستانی) اور عبدالرحمان عبدالستار (پاکستانی) بتائے گئے ہیں۔

ایک بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ‘ایرانی جارحیت’ کی فلم بندی کی اور اسے شیئر کر کے ’دشمنی کے اقدام سے ہمدردی ظاہر کی اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جس نے سلامتی نے امن و امان کو نقصان پہنچایا۔‘

اس کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز ملزمان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائی گئیں جس سے ’شہریوں میں گمراہی اور خوف پھیلا۔‘

بحرین کے حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ بحرین نے شہریوں اور رہائشیوں کو متنبہ کیا ہے کہ قانونی احتساب سے بچنے کے لیے غیر مصدقہ ویڈیوز یا خبریں شیئر کرنے سے گریز کریں۔

ادھر منامہ میں پاکستانی سفارتخانے نے بحرین میں مقیم پاکستانیوں کو ہدایت کی ہے کہ ’سکیورٹی سے متعلق کسی بھی واقعے کی ویڈیوز یا تصاویر بنانے یا سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔‘

اس کا کہنا ہے کہ بحرین میں ایسا کرنا قانوناً جرم ہے اور ’خلاف ورزی پر سنگین قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔بحرین میں الیکٹرانک سکیورٹی کے امور سے منسلک کیپٹن خلیفہ النجم نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ اگر عوام کو کسی میزائل کا ملبہ نظر آئے تو وہ کسی صورت بھی اس کی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading