ناندیڑ: پولیس کی مشترکہ کارروائی، جبری ڈکیتی کا سنگین جرم بے نقاب، 1 لاکھ 10 ہزار روپے کا مال برآمد

ناندیڑ:( ورق تازہ نیوز)پولیس اسٹیشن ناندیڑ دیہی اور مقامی کرائم برانچ ناندیڑ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے جبری ڈکیتی کے ایک سنگین جرم کو بے نقاب کیا ہے اور ملزمان کے قبضے سے تقریباً 1 لاکھ 10 ہزار روپے مالیت کا مسروقہ سامان برآمد کرلیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واردات 4 مارچ 2026 کو رات تقریباً 2 بجے گنگا بیٹ، تعلقہ و ضلع ناندیڑ میں واقع ایک کھیت کے آکھاڑے (جھونپڑی) میں پیش آئی۔ اس معاملے میں 60 سالہ دروپدابائی پی۔ مانیکراؤ انکر نے ناندیڑ دیہی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔

شکایت کے مطابق دو نامعلوم افراد نے چہرے ڈھانپ کر ہاتھوں میں لاٹھی اور لوہے کی راڈ لے کر کھیت میں موجود جھونپڑی میں داخل ہوکر دروپدابائی انکر (65 سال) اور مانیکا ناگوبا انکر (90 سال) کو نیند سے جگایا اور ان پر لاتوں، مکوں اور راڈ سے حملہ کرکے شدید زخمی کردیا۔ بعد ازاں ملزمان نے دروپدابائی کے ہاتھوں کی چاندی کی چار پٹلیاں اور دونوں پیروں کے تقریباً 50 تولہ وزنی چاندی کے زیورات زبردستی چھین کر فرار ہوگئے۔ مسروقہ سامان کی مجموعی قیمت تقریباً 1 لاکھ 10 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔

اس معاملے میں ناندیڑ دیہی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ نمبر 192/2026 درج کیا گیا۔ یہ کارروائی پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھیناش کمار، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ارچنا پاٹل، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سورج گرو اور سب ڈویژنل پولیس آفیسر پرشانت شندے کی رہنمائی میں انجام دی گئی۔

تفتیش کے دوران پولیس کی ٹیم نے خفیہ اطلاع اور سائبر سیل کی مدد سے جالنا ضلع کے ویرے گاؤں سے ایک ملزم روی عرف منڈل بھاسکر شندے (20 سال)، پیشہ گنا کاٹنے والا مزدور، کو گرفتار کرلیا۔ پوچھ گچھ کے دوران اس کے قبضے سے چاندی کے زیورات برآمد کیے گئے۔

بعد ازاں پولیس نے دوسرے ملزم بھاسکر سایا شندے (55 سال)، ساکن ویرے گاؤں ضلع جالنا، کو بھی حراست میں لے کر ناندیڑ دیہی پولیس کے حوالے کردیا۔ دونوں ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 1 لاکھ 10 ہزار روپے مالیت کے چاندی کے زیورات ضبط کیے گئے ہیں۔

گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے پولیس ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش پولیس سب انسپکٹر وجئے کمار کامبلے کررہے ہیں۔اس کامیاب کارروائی پر پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھیناش کمار نے کارروائی انجام دینے والی ٹیم کی ستائش کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading