بی بی سی عربی کے جائزے کے مطابق ایران نے گذشتہ سال اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ کے مقابلے اس حالیہ جنگ کے دوران خلیجی خطے کی جانب زیادہ میزائل داغے ہیں۔
سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری سے 4 مارچ تک خلیجی ملکوں پر داغے گئے میزائلوں کی تعداد 550 سے زیادہ ہے۔
عمان نے اپنی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں کی تعداد نہیں بتائی۔دوسری جانب واشنگٹن اور اسرائیل نے ایران پر ہزاروں بم گرائے ہیں۔
ایران کی دفاعی صلاحتیوں میں بیلسٹک، کروز اور ہائپر سونک میزائل شامل ہیں اور اس کے پاس ڈرونز بھی ہیں مگر بظاہر اس نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کی حکمت عملی تبدیل کی۔
تو ہمیں ان میزائلوں کے بارے میں کیا معلوم ہے؟ اسرائیل کے خلاف گذشتہ جنگ کے مقابلے اس بار کیا مختلف ہے اور ایران اپنے ہتھیاروں پر کس حد تک انحصار کر سکتا ہے؟
ہمیں ان میزائلوں کے بارے میں کیا معلوم ہے؟
ایران کے پاس کم اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں۔ فاؤنڈیشن فار ڈیفینس آف ڈیموکریسیز کے مطابق ایران کے کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی رینج 300 سے ایک ہزار کلومیٹر تک ہے۔خلیجی ممالک سمیت کئی پڑوسی ان میزائلوں کی رینج میں آتے ہیں۔