نواب ملک اور ثنا ملک شیخ کی نمائندگی پر اجیت پوار کی مداخلت، ڈی جی پی نے ریاست بھر میں جانوروں کی پکڑ دھکڑ اور تاجروں کو ہراساں کرنے والوں پر کارروائی کا حکم دیا
ممبئی: مہاراشٹر میں جانوروں کی پکڑ دھکڑ، ٹرانسپورٹ میں رکاوٹ اور تاجروں کو ہراساں کرنے کے واقعات کے خلاف ڈی جی پی کی جانب سے حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی پی نے ریاست کے تمام علاقائی پولیس سربراہان کو سرکولر جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جانوروں کی گاڑیوں کو غیر قانونی طور پر روکنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ڈی جی پی نے یہ سرکولر قریش برادری کی اس شکایت کے بعد جاری کیا ہے جس میں سماج دشمن عناصر کی جانب سے جانوروں کی گاڑیوں کو روکنے اور تاجروں کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ قریش برادری اور ملی تنظیموں کے نمائندوں کے ایک وفد نے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار سے ملاقات کی تھی اور جانوروں کی گاڑیوں کو غیرقانونی طور پر روکے جانے کی شکایت کی تھی۔ وفد نے نائب وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا تھا کہ جانوروں کو لانے والی گاڑیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس وفد کی قیادت این سی پی کے سینئر لیڈر نواب ملک اور رکن اسمبلی ثنا ملک شیخ نے کی تھی۔ وفد کی ملاقات کے بعد نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے فوری طور پر ریاست کے ڈی جی پی سے بات کی اور اس جانورں کی گاڑیوں اور تاجروں کو تحفظ دینے کی ہدایت دی۔ یہ اہم ملاقات ۶ اگست کو ممبئی میں ہوئی تھی۔
وفد نے بتایا کہ ریاست کے مختلف اضلاع میں جانوروں کو لے جانے والی گاڑیاں پولیس یا بعض اوقات غیر متعلقہ عناصر کی جانب سے بلا وجہ روکی جا رہی ہیں۔
کئی مواقع پر یہ گاڑیاں زبردستی ضبط کی جاتی ہیں، جانوروں کو چھینا جاتا ہے اور مالکان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، بعض شدت پسند عناصر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر نہ صرف گاڑیاں روکنے اور جانور چھیننے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کر کے کاروبار کو مفلوج کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ وفد نے یہ بھی نشاندہی کی کہ متعدد تاجر جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیے جاتے ہیں اور اس عمل سے نہ صرف کاروباری حلقوں میں بے چینی پھیلتی ہے بلکہ معاشی نقصان بھی ہوتا ہے۔
اجیت پوار نے وفد کی باتوں کو غور سے سننے کے بعد فوری طور پر ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت دی کہ اس مسئلے پر فوری کارروائی کی جائے اور غیر قانونی پکڑ دھکڑ یا ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔ اجیت پوار کی اس ہدایت کے بعد ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے ریاست بھر کی پولیس کے لیے ایک سخت اور واضح سرکولر جاری کیا۔ اس سرکولر میں کہا گیا ہے کہ جانوروں کی کسی بھی گاڑی کو صرف اسی صورت میں روکا جائے جب قانون کے مطابق اس کی ضرورت ہو اور اس کے لیے مستند بنیاد موجود ہو۔
کسی بھی تاجر یا ڈرائیور کو بلا وجہ ہراساں نہ کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کاروبار قانونی دائرے میں آسانی سے جاری رہ سکے۔ سرکولر میں یہ بھی ہدایت دی گئی کہ کسی بھی شخص یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔
رکن اسمبلی ثنا ملک شیخ نے ڈی جی پی کی جانب سے جاری اس حکم نامے کو قریش برادری کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ یہ سب اجیت پوار کی بروقت مداخلت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سرکولر کے بعد تاجروں کو اپنے کام میں سہولت ملے گی اور وہ بلا خوف و خطر اپنے کاروبار کو آگے بڑھا سکیں گے۔ ثنا ملک شیخ نے بھی کہا کہ یہ پیش رفت نہ صرف قریش برادری بلکہ ریاست کے تمام ان تاجروں کے لیے ایک بڑی راحت ہے جو پچھلے کچھ عرصے سے خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار تھے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب اس سرکولر کے نفاذ کے بعد پولیس کی کارکردگی میں شفافیت بڑھے گی اور تاجروں کے خلاف غیر ضروری کارروائیاں بند ہو جائیں گی۔
یہ سرکولر ایسے وقت میں جاری ہوا ہے جب ریاست میں جانوروں کی ٹرانسپورٹ سے متعلق مسائل بڑھ رہے تھے اور تاجروں کو بار بار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس سرکولر نے واضح پیغام دیا ہے کہ حکومت اور پولیس کسی بھی غیر قانونی عمل یا بدسلوکی کو برداشت نہیں کریں گے اور قانون کے مطابق ہر شہری کو اپنے جائز کاروبار کا حق حاصل ہے۔
Sana Malik Urdu News 13 August 25.docx
