مسلمانوں کو ریزرویشن دینا تو دور اس پر بات تک نہیں کی جارہی ہے: نسیم خان

اقلیتوں کے مسائل حل کرنا میری اولین ذمہ داری ہے: اسلم شیخ

موجودہ سیاسی حالات کے پیشِ نظر مسلمانوں کو دانشمندی سے کام لینا ہوگا: ایم ایم شیخ

ریاستی کانگریس کے اقلیتی شعبہ کی جائزہ میٹنگ کا انعقاد، مرکزی حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کا اعلان

ممبئی: ریاستی حکومت میں کانگریس ایک اہم اتحادی ہے اور کانگریس نے شیوسینا جیسی پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ محض اس لئے کیا تھا کہ بڑے دشمن کو اقتدرا سے دور رکھا جاسکے۔ لیکن اگر اسے کانگریس کی مجبوری سمجھا جارہا ہے تو غلط ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لئے فکر مند ہیں۔ مسلمانوں کا ریزرویشن کا مطالبہ ہے لیکن اس حکومت میں مسلمانوں کو ریزرویشن دینا تو دور اس پر بات تک نہیں کی جارہی ہے۔ یہ باتیں آج یہاں ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر وسابق وزیر نسیم خان نے کہی ہیں۔ وہ یہاں ریاستی کانگریس کے اقلیتی شعبہ کی جانب سے منعقدہ جائزہ میٹنگ سے خطاب کررہے تھے۔ واضح رہے کہ 12دسمبر کو مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف جئے پور میں ملکی سطح کے احتجاجی پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے، یہ میٹنگ اسی کی تیاریوں کی ضمن میں منعقد کی گئی تھی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نسیم خان نے مسلمانوں کے مسائل کے حوالے سے ریاستی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناڈالا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک مہاراشٹر کے مسلمانوں کے مسائل کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ مسائل سنگین ہیں اور انہیں حل کیا جانا چاہئے۔ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کے مسائل حل کرنے کے لئے اقلیتی شعبہ کی پہل پر ریاست کی وزیرتعلیم ورشاگائیکواڑ کے یہاں میٹنگ بلاکر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی ہے جو اقلیتی تعلیمی اداروں کے مسائل کا حل تلاش کرے گی۔ اس کمیٹی میں مسلمانوں کے تعلیمی اداروں سے وابستہ لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جس کے بہتر نتائج آنے کی امید ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت میں تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور حکومت انہیں حل بھی کررہی ہے لیکن اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنا تو دور ان پرچرچا بھی نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چونکہ اپنے گھر میں بیٹھے ہیں اس لئے ہمیں کھل کر بات کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہونی چاہئے۔ کچھ کمیاں ہیں جو حکومت کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں اگر حکومت کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے تو کانگریس کی مدد سے چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں حکومت سازی کے لئے کانگریس پارٹی کی جانب سے ۴ لوگوں کی کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے بہت غور وخوض کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ بڑے دشمن سے چھوٹا دشمن بہتر ہے اور بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے شیوسینا سے کامن مینمم پروگرام کی بنیاد پر اتحاد کا فیصلہ کیا گیا۔لیکن گزشتہ دو سالوں میں ہم نے دیکھا کہ مراٹھا ریزرویشن پر بات ہوتی ہے، اوبی سی ریزرویشن پر بات ہوتی ہے لیکن مسلمانوں کے ریزرویشن پر کوئی بات نہیں ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری ان لوگوں کی ہے جو حکومت میں ہیں کہ وہ مسلمانوں کے مسائل پر بھی حکومت کی توجہ مبذول کرائیں۔ نسیم خان نے اس موقع پر لوگوں سے اپیل کیا کہ 12دسمبر کے احتجاجی پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے اپنے اپنے ضلع سے لوگوں کو جانے کا پروگرام ترتیب دیں۔

اس پروگرام میں ماہی گیری وٹیکسٹائل کے وزیر اسلم شیخ بھی شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کامن مینمم پروگرام کے تحت تمام طبقات کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ میں مسلمانوں کے مسائل کو اپنے طور پر سمجھنے اور حل کرنے کے لئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام علاقوں کے نمائندہ مسلمانوں کی ایک میٹنگ بہت جلد طلب کرونگا اور مسائل کو تین زمرے میں تقسیم کرکے انہیں حل کرنے کی کوشش کرونگا۔ انہوں نے شرکاء سے اپیل بھی کی کہ وہ مجھ سے ملاقات کریں اور میں خاص مسلمانوں کے مسئلے کے حل کے لئے ایک اوایس ڈی نامزد کرونگا تاکہ مسائل جلد ہوسکیں۔

ریاستی کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے صدر ایم ایم شیخ نے اس موقع پر کہا کہ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف پورے ملک میں زبردست بے چینی وبے اطمینانی ہے۔ یہ وقت اس بے چینی وبے اطمینانی کو دبانے کا نہیں بلکہ اسے ظاہر کرنے کا ہے اور اسی لئے اقلیتی شعبہ کی جانب سے 12دسمبرکو جئے پور میں ہونے والے احتجاج میں بڑی تعداد میں کارکنان شریک ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی صرف ایک ہی پالیسی ہے اور وہ ہے نفرت پھیلانے کی پالیسی۔ اس نفرت کا سب سے بڑا نقصان اقلیتوں کو اٹھانا پڑتا ہے اور اسی لئے یہ اقلیتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ملک کے لوگوں کو مرکزی حکومت کی اس منافرت کی پالیسی سے ہوشیار کریں۔

تلک بھون دادر میں ہونے والی اس جائزہ میٹنگ میں کانگریس اقلیتی شععبہ مہاراشٹر کے نگراں محمد احمد خان کے علاوہ اقلیتی شعبہ کے ریاستی نائب صدر ابراہیم بھائی جان، ممبئی اقلیتی شعبہ کے صدر ببو خان ومختلف اضلاع سے ہوئی ضلعی صدور موجود تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔