کسانوں کی جدوجہدکامیاب،حکومت اپنا وعدہ جلد پورا کرے: ناناپٹولے

خوشی کی بات ہے کہ احتجاج کرنے والے کسان ایک سال بعد اپنے گھرواپس جارہے ہیں

ممبئی: یہ خوشی کی بات ہے کہ کسان سال بھر سے جاری اپنا احتجاج ختم کر کے اپنے اپنے گھروں کو واپس جارہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی طرف سے دی گئی تحریری یقین دہانی کے بعد کسان یونینوں نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔لیکن مودی حکومت کے اب تک کے تجربات کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نے کسانوں سے جو وعدے کئے ہیں کہیں وہ بھی ’جملہ‘ نہ ثابت ہوں۔ اس لئے حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ ایم ایس پی قانون سمیت تمام وعدوں کو جلد ازجلد پورا کرے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔

کسانوں کے ذریعے احتاج ختم کرنے کے اعلان پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے پٹولے نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے ایم ایس پی قانون بنانے، کسانوں سے بجلی کے بل پر بات کرنے اور بل متعارف کرانے، احتجاج کے دوران درج ہونے والے مقدمات کو واپس لینے اور معاوضہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے کسانوں کو دی گئی اس تحریری یقین دہانی کے بعد کسان تنظیموں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 378 دنوں سے جاری اپنے تاریخی احتجاج کو واپس لے لیا ہے۔ تاہم اس احتجاج کے دوران جن 700 بے قصور کسانوں کی جانیں گئیں ہیں، ان کی ذمہ دار ی سے مودی حکومت بھاگ نہیں سکتی۔ مودی حکومت کی محض تکبر اور آمریت کی وجہ سے کسانوں کی جانیں گئی ہیں۔یہ نہیں بھولا جاسکتا کہ احتجاج کرنے والے کسانوں پر بے انتہا مظالم ڈھائے گئے اور اس کے لئے ملک مودی حکومت اور بی جے پی کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اگر حکومت ایک سال پہلے ہی یہی فیصلہ کر لیتی تو اتنے بڑے جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔

ناناپٹولے نے کہا کہ گوکہ کسانوں نے مودی حکومت پر اعتماد کرتے ہوئے اپنا احتجاج واپس لے لیا، لیکن بی جے پی اور مودی حکومت کے سابقہ تجربات کو دیکھتے ہوئے اعتماد کرنا مشکل ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے نریندر مودی نے خود کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے اورڈیڑھ گنا گارنٹی قیمت دینے کا وعدہ کیا تھا۔سات سال گزرجانے کے بعد بھی مودی حکومت یہ وعدہ پورا نہیں کر سکی۔ اس نے نوجوانوں کو ہر سال دو کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرتے ہوئے گمراہ کیا اور بعد میں انہیں پکوڑے تلنے کا مشورہ دیا۔ ہر اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اقتدار میں آنے کے محض 100 دن میں مہنگائی کم کرنے اور پیٹرول 35 روپے فی لیٹر کرنے کے وعدے کیے گئے لیکن ان میں سے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔

ناناپٹولے نے کہا کہ کسانوں کے احتجاج میں کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی نے شروع سے ہی سے حصہ لیا۔راہل گاندھی نے یہ واضح کردیا تھا کہ کسان اپنے حق وانصاف کے لئے لڑ رہے ہیں، وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے، مودی حکومت کو ہی پیچھے ہٹنا پڑے گا۔دنیا نے دیکھ لیاکہ راہل گاندھی کی باتیں حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئیں اوربالآخر مودی سرکار کوہی پیچھے ہٹنا پڑ ا اور کسانوں سے معافی مانگتے ہوئے تینوں سیاہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کرناپڑا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مودی حکومت نے اترپردیش اور پنجاب سمیت پانچ ریاستوں میں شکست کے خوف سے زرعی قوانین کو منسوخ کرکے کسانوں کے تمام مطالبات کو پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن اب اس پر فوری طور پر بات چیت کرکے فیصلہ کیا جانا چاہئے۔