ذات پات وورن ویوستھا ختم کرنے کے لیے بھاگوت مرکزی حکومت کوتنبیہ کریں

ممبئی:ذات پات، ورن ویوستھا اوردلتوں کو یکساں حقوق وموقع جب تک نہیں ملے گا اس وقت تک دلتوں پرہونے والے مظالم کو نہیں روکا جاسکتا۔ اس لیے آر ایس ایس سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کومرکز ی حکومت کو تنبیہ کرنی چاہئے۔ یہ باتیں آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ریاستی ترجمان مہیش تپاسے نے کہیں ہیں۔

مہیش تپاسے نے کہا کہ موہن بھاگوت کا کہنا ہے کہ ذات پات اور ورن ویوستھا ختم ہونی چاہئے، لیکن بھاگوت کے اس خیال سے مرکزی حکومت متفق معلوم نہیں ہوتی۔ تپاسے نے کہا کہ ذات پات کے نظام اورورن ویوستھا کو ختم کرنے کے لیے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ناسک کے کالارام مندر میں داخل ہونے کے لیے ستیہ گرہ کیا۔اس کے بعد گنپت راؤ تپاسے نے مندروں میں داخلہ ایکٹ لا کر دلتوں کے لیے مندروں کے دروازے کھولے۔لیکن جن دلتوں کو ہزاروں سالوں سے جنہیں تعلیم، روزگار اور سماجی حقوق سے محروم رکھا گیا،ان پر مودی حکومت کے دور میں مظالم میں اضافہ ہوا ہے اور جس کی توثیق نیشنل کرائم ریکارڈبیور کے اعداد وشمار کرتے ہیں۔

تپاسے نے کہا کہ ملک میں دلتوں پر مظالم میں 11؍فیصداضافہ 2019 سے 2021 کے درمیان ہوا ہے۔اب تک ۷لاکھ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ ایک جانب اس قدر بڑے پیمانے پردلتوں پر مظالم میں اضافہ ہورہا ہے اور دوسری جانب موہن بھاگوت ذات پات اورورن ویوستھا کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ہم موہن بھاگوت کے اس بیان کا استقبال کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان سے یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ وہ اس کے لیے مرکزی حکومت کو سخت ہدایات بھی دیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading