’کسانوں کے ادھیکار میں راشٹروادی میدان میں‘

کسانوں کے احتجاجی تحریک کی حمایت میں کرلا میں این سی پی کا زبردست ’چکا جام‘ مظاہرہ

ممبئی: ’مودی شاہ کی تاناشاہی نہیں چلے گی، نہیں چلے گی‘، ’آواز دو ہم ایک ہیں‘، ’جے جوان جے کسان‘،’کسانو ں کے ادھیکار میں راشٹروادی میدان میں‘ جیسے زوردار نعروں کے ساتھ کسانوں کے ملک گیر چکاجام احتجاج کی حمایت میں آج کرلا میں این سی پی نے زبردست مظاہرہ کیا جس کی قیادت ممبئی این سی پی کے صدر اور اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کی۔ واضح رہے کہ کامگار سنگھٹنا سمیوکت کرتی سمیتی کی جانب سے کرلا میں کسانوں کی حمایت میں چکاجام احتجاج کانعرہ دیا تھا اور اس احتجاج کو راشٹروادی کانگریس پارٹی نے اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اس موقع پر نواب ملک نے مرکزی حکومت اور مودی کے کام کاج پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کسانوں کی پارٹی نہیں بلکہ کسانوں کے پیداوار کو لوٹنے والی پارٹی ہے اور بڑے سرمایہ داروں کو زرعی سیکٹر گھسانے کی اس کی سازش ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ گوکہ ماڈرن قانون بنانے کا اختیار حکومت ہے لیکن اس کے لیے بھی کچھ طریقہ کار متعین ہیں۔ مگر بی جے پی نے بغیر کسی بحث ومباحثے کے براہ راست قانون بنادیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کے بنائے ہوئے تینوں قوانین کے خلاف گزشتہ چار ماہ سے کسان احتجاج کررہے ہیں۔ مودی وبی جے پی حکومت کو شرم آنی چاہیے کہ وہ ان کسانوں کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لال قلعہ پر جو حادثہ ہوا ہے اس کے ذمہ دار کسان نہیں بلکہ بی جے پی ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ تبدیلی کی یہ لڑائی دہلی سے شروع ہوئی ہے اور اب یہ ملک کے گوشے گوشے میں پہونچ چکی ہے۔ اس لیے اب تو مودی حکومت کو بیدار ہونا چاہئے اور تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کردینا چاہئے۔