این سی پی-ایس پی کے اقلیتی ڈویژن کے ریاستی صدر جاوید حبیب کا مطالبہ
ممبئی: محمود الرحمن کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ ریاست میں مراٹھا و مسلم کمیونٹی کو 5 فیصد ریزرویشن دیا جائے لیکن ریاستی حکومت نے ابھی تک ریزرویشن پر کوئی موقف نہیں اختیار کیا ہے۔ اس کی وجہ سے مراٹھا و مسلم کمیونٹی کے طلبہ کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ این سی پی-ایس پی کے اقلیتی ڈویژن کے ریاستی صدر جاوید حبیب نے ممبئی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں اقلیتی برادری کے ہونہار اور ذہین طلبہ کے لیے مولانا آزاد ریسرچ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا مطالبہ کیا۔
جاوید حبیب نے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں مراٹھا و مسلم کمیونٹی سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ ہے۔ محمود الرحمن کمیٹی کی رپورٹ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ ان کی سفارش کے مطابق مسلم کمیونٹی کو 5 فیصد ریزرویشن ملنا چاہئے، مگر ریاستی حکومت نے دیا ہوا ریزرویشن واپس لے لیا۔ آج مہاراشٹر میں مسلم کمیونٹی کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لیے کوئی موثر منصوبہ نہیں ہے۔ یہ کمیونٹی دن بہ دن پسماندہ ہوتی جا رہی ہے۔ جاوید حبیب نے مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتی برادری کے ہونہار اور ذہین طلبہ کی مدد کے لیے مولانا آزاد ریسرچ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا جائے۔
جاوید حبیب نے مزید کہا ہے کہ مراٹھا و ریاست کی تمام برادریوں کے لیے ریاستی حکومت سارتھی، ایس سی-ایس ٹی برادری، بارٹی، آرتی، مہاجیوتی جیسی اسکیمیں چلا رہی ہے تو مہاراشٹر میں مراٹھی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کیوں؟ مسلمانوں کے لیے بھی اسی طرح کی اسکیمیں لاگو کی جائیں۔ جاوید حبیب نے کہا کہ مہاراشٹر کی شبیہ کو بہتر بنانے کے لیے مولانا آزاد ریسرچ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے اور مالی فنڈز دستیاب کرائے جائیں، بصورت دیگر اگر مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو این سی پی-ایس پی احتجاج کرے گی۔