ریزرویشن کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے وزیر اعظم کو پہل کرنی چاہئے: نانا پٹولے
ریزرویشن پر کانگریس کا موقف واضح ہے، ذات پات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے اور 50 فیصد کی حد ختم کی جائے
ریاست کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال سنگین ہے، فوری امداد فراہم کی جائے، کسانوں کے قرض کی وصولی روکی جائے
اسمبلی انتخابات میں خواتین کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے مہایوتی حکومت کی ’لاڈلی برہمن‘ بہن اسکیم ہے
ممبئی: ریاست میں ریزرویشن کے مسئلے کو پیچیدہ بنانے کی ذمہ دار صرف بی جے پی ہے۔ 2014 میں دیویندر فڑنویس نے مراٹھا، دھنگر اور قبائلی برادریوں کو ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے سینہ ٹھوکتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو ریزرویشن کا مسئلہ 24 گھنٹے کے اندر حل کریں گے، مگر مرکز اور ریاست میں 10 سال تک بی جے پی کی حکومت کے باوجود ریزرویشن کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اب ریزرویشن کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پہل کرنی چاہیے۔
منگل کو تلک بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی نے ریزرویشن کے مسئلہ پر ریاست میں ذات پات کے تنازعہ کو ہوا دینے کا جرم کیا ہے۔ بی جے پی نے ریزرویشن کے معاملے پر مراٹھا اور او بی سی برادری کو گمراہ کیا ہے اور سماجی اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے۔ اقتدار پر قابض لوگوں کو جب ریزرویشن پر فیصلہ لینا چاہئے تو وہ اپوزیشن پارٹیوں سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا کیا جائے۔ ریزرویشن پر کانگریس پارٹی کی پوزیشن واضح ہے۔ ہمارے لیڈر راہل گاندھی نے صاف کہہ دیا ہے کہ ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے اور ریزرویشن کی 50 فیصد کی حد کو ختم کیا جائے۔ یہ مرکزی حکومت کا کام ہے اس لیے امید ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت جلد ہی اس پر کوئی فیصلہ لے گی۔
پٹولے نے کہا کہ اگر ریاست اور مرکز میں کانگریس کی حکومت آتی ہے تو ہم ریزرویشن کا مسئلہ حل کریں گے۔ مراٹھا برادری کے نمائندوں کی میٹنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے پٹولے نے کہا کہ جب کانگریس ہیڈکوارٹر تلک بھون میں مراٹھا برادری کے لوگوں کی ملاقات ہوئی تو انہیں پارٹی کے موقف سے آگاہ کیا گیا۔ اب اگر کوئی دوبارہ ملنا چاہے تو ان کا بھی استقبال ہے، ہم ان سے بھی بات کریں گے۔
’لاڈلی بہین یوجنا‘ پر بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے اسمبلی انتخابات سے پہلے لاڈلی بہین یوجنا شروع کی لیکن حکومت بنتے ہی اسے روک دیا گیا۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر میں بھی انتخابات سے پہلے بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی حکومت نے خواتین ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے لاڈلی بہین یوجنا کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس حکومت نے خود خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کی اسکیمیں شروع کی ہیں۔ کرناٹک اور تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی مہالکشمی اسکیم چل رہی ہے اور مہاراشٹر میں ایم وی اے حکومت بننے کے بعد کانگریس ان اسکیموں کو بڑے پیمانے پر نافذ کرے گی۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک ہے۔ کئی اضلاع میں فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور لوگوں کے گھر بھی بہہ گئے ہیں۔ لوگوں کے پاس نہ رہنے کے لیے مکان ہے نہ کھانے کے لیے کھانا۔ لیکن حکومت نے ابھی تک پنچنامہ کا حکم نہیں دیا۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے کسان اور عوام حکومتی امداد کی توقع کر رہے ہیں لیکن مہایوتی حکومت ان پر توجہ نہیں دے رہی۔ سیلابی صورتحال کے باعث کسان قرضے واپس نہیں کر سکتے، اس لیے ان سے قرضہ جات وصول نہ کئے جائیں۔