ممبئی: ریاست کی ای ڈی حکومت کے بارے میں آئینی سوال کرتے ہوئے این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے سے پوچھاہے کہ ریاست کی سابقہ ٹھاکرے حکومت کے فیصلوں وسفارشات کو رد کرنے کا کیا اسے حق حاصل ہے؟ میڈیا سے بات کرتے ہوئے تپاسے نے کہا کہ مہاراشٹر کی ای ڈی حکومت کی آئینی حیثیت ثابت ہونا باقی ہے، اس کے باوجود وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے گورنر کوخط لکھ کر درخواست کی ہے کہ پچھلی ٹھاکرے حکومت میں تجویزکردہ ودھان پریشد کے 12؍ایم ایل سی کی فہرست کومنسوخ کیا جائے۔ اس تعلق سے تپاسے نے شدید ناراضگی ظاہر کی ہے۔
تپاسے نے کہا کہ ٹھاکرے حکومت میں وزیراعلیٰ کے داہنے ہاتھ کے طورپر ایکناتھ شندے کی شناخت ہونے کے باوجود انہوں نے حکومت سے بغاوت کی اور اب جبکہ وہ خود وزیراعلیٰ بن چکے ہیں تو ٹھاکرے حکومت کے فیصلوں اور سفارشات کو رد کررہے ہیں۔تپاسے نے کہا کہ اگرسیاست لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور ترقی کے لیے ہو تو کسی کو کوئی شکایت نہیں ہوگی، لیکن بدقسمتی سے مہاراشٹر میں تعصب کی سیاست شروع ہوگئی ہے جو نہ تو کسی طور پر مناسب ہے اور نہ ہی مہاراشٹر کے مفاد میں ہے۔