ممبئی: اپنے ملک کو ضرورت ہونے کے باوجود دوسرے ممالک کو ویکسین فراہم کیے جانے پر راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیرنواب ملک نے آج یہاں وزیراعظم نریندرمودی پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ صرف پبلیسیٹی کے لیے کام کرنے کی عادت انتہائی غیرمناسب ہے۔ اپنے ملک کو مشکلات میں ڈال کر دوسرے ممالک کی مدد کرنا کسی طور مناسب نہیں ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کورونا پر قابوپانے کے لیے مرکزی حکومت کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔

نواب ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے دوسرے ممالک کو جو ویکسین فراہم کیا ہے وہ صرف اپنی پبلیسیٹی کے لیے کیا ہے اور پبلیسٹی کے کام کرنا انتہائی غیرمناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات اور مفاد پرستی کی سیاست کے لیے یہ صورت حال ملک میں پیدا کی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اپنے ملک کی ویکسین کی اشد ضرورت ہے تو پھر دوسرے ممالک کو ویکسین کیوں فراہم کی گئی؟ نواب ملک نے کہا کہ ملک کے سامنے کورونا کا جوچیلنج ہے، اس سے نمٹنے کے لیے مرکزی حکومت کو آل پارٹی میٹنگ طلب کرتے ہوئے سبھی لوگوں کو ایک ساتھ لینا چاہیے۔ مشترکہ طور پر ایک پروگرام کی تیاری سے کورونا کے بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

نواب ملک نے ویکسین کی مختلف قیمتوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ مرکزکو 150روپئے، ریاستوں کو 400روپئے اور پرائیویٹ اسپتالوں کو 600روپئے میں ویکسین دینے کا پونہ والا نے اعلان کیا ہے جو شکوک پیدا کرتا ہے۔ اس کے لیے پونہ والا ذمہ دار ہیں۔ انہیں کوئی بدنام نہیں کررہا ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ ابتداء میں ریاستوں کو 400روپئے میں ویکسین دینے کا اعلان کیا گیا، پھر اس کے بعد 300روپئے کیا گیا۔ یہ سب شکوک پیدا کرنے والی حرکتیں ہیں۔ اس سے ملک کی عوام کے ذہنوں میں کئی سوال پیدا ہورہے ہیں۔