ممبئی: کورونا کی ویکسین تیار کرنے والے سیرم انسٹی ٹیوٹ کے ادر پونہ والا کو دھمکی دینے کا معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ پونہ والا نے لندن میں ایک انٹرویو کے دوران کچھ سیاسی شخصیات کے ذریعے دھمکی دیے جانے کا بات کہی ہے۔ پونہ والا کو دھمکی دینے والوں کے ناموں کا انکشاف کریں۔ پونہ والاملک کے لیے لندن سے جلد واپس آکر بڑے پیمانے پر ویکسین تیار کریں اور ملک کو درکار ویکسین کی ضرورت کو پورا کریں۔ اگر ضرورت پڑی تو ریاستی حکومت وکانگریس پارٹی انہیں تحفظ فراہم کرے گی۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔

اس ضمن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ادر پونہ والا نے ریاستی یا مرکزی حکومت سے سیکیورٹی نہیں مانگی تھی،اس کے باوجود مرکزی حکومت نے انہیں وائی درجے کی سیکیورٹی فراہم کی ہے۔ اگر کوئی شخص سیکیورٹی دینی ہوتی ہے تو پہلے یہ تفتیش کیا جانا ضروری ہوتا ہے کہ جسے سیکوریٹی فراہم کی جارہی ہے کیا واقعی اس کی جان کو خطرہ ہے؟ اس کے بعدمتعلقہ شخص کی درخواست کے بعد اسے سیکوریٹی فراہم کی جاتی ہے۔لیکن مرکزی حکومت نے بغیر مانگے ہوئے ادر پونہ والا کو سیکوریٹی دی ہے۔ اس کے پسِ پشت کون سی سیاست کارفرما ہے؟ کیا پونہ والا پر نگاہ رکھنے کے لیے انہیں سیکوریٹی فراہم کی گئی ہے؟ پونہ والا ومرکزی حکومت اس کی وضاحت کریں۔

ناناپٹولے نے کہا کہ کورونا پر قابو پانے کے لئے فی الوقت ویکسینیشن ہی واحد راستہ ہے اور پوری دنیا میں اسی آپشن کا استعمال کیا جارہا ہے۔ کانگریس کی صدر محترمہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے بار بار ملک گیر ویکسینیشن کا مطالبہ کیا ہے، اور سپریم کورٹ نے بھی مرکز کو ہدایت کی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کرے۔ کانگریس پارٹی کے مطالبے کو سپریم کورٹ نے حق بہ جانب قراردیا ہے۔ویکسینیشن نہ ہونے کی وجہ سے کورونا سے ہونے والی اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں اور غیر منصوبہ بند ی کی وجہ سے ویکسینیشن میں مشکلیں پیش آرہی ہیں۔ ویکسین کی قیمتیں بھی ایک جیسی ہونی چاہئیں تھیں، لیکن ایک ہی ویکسین کی تین مختلف قیمتیں کیوں ہیں؟ یہ ایک بڑا راز ہے۔کیا اس میں کوئی کمیشن خوری کا معاملہ ہے؟ قیمتوں میں تفاوت سے یہ شک پیدا ہوتا ہے۔

پٹولے نے کہا کہ کورونا کے بحران پر قابوپانے میں مرکز پوری طرح سے ناکام ثابت ہوا ہے۔ مرکز کی غلطیوں کی وجہ سے لوگوں کی جانیں جارہی ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں کورونا کے متاثرین میں اضافہ کے باوجود مرکز ی حکومت نے ریمیڈیسیور وویکسین کو برآمد کیا؟۔ اگر ریمڈیسیور کو کھلے بازار میں لایاگیا ہوتا تو اس کی بلیک مارکیٹنگ نہیں ہوئی ہوتی۔ مرکزی حکومت نے مہاراشٹر کو 30 اپریل تک 4.38 لاکھ ریمیڈیسیور دینے کا منظور کیا لیکن ابھی تک اس میں سے صرف 2.50 لاکھ ریمیڈیسیور ہی دیا گیا ہے۔ ریاست کی صورتحال ابتر ہوئی اور بلیک مارکیٹنگ میں اضافہ ہوا۔مریضوں کے اہل خانہ کی جیبیں کاٹی جارہی ہیں۔اس صورت حال کے لیے مکمل طور پر مرکزی حکومت ہی ذمہ دار ہے۔