NCP Urdu News 24 Oct 21

آرین خان معاملے کی ایس آئی ٹی سے انکوائری کرائی جائے: نواب ملک

یہ ثبوت ہے کہ مرکزی حکومت ایجنسیوں کا غلط استعمال کرتی ہے اور ان کے ذریعے پیسے وصولتی ہے: جینت پاٹل

ممبئی:آرین خان ڈرگس کیس معاملے کے اہم گواہ کے پی گوساوی کے باڈی گارڈ کا محافظ پربھاکرسائل کے انکشاف کے بعد این سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک نے اس معاملے کی ایس آئی ٹی کے ذریعے انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ اور وزیرداخلہ سے مل کر ایس آئی ٹی سے تفتیش کا مطالبہ کریں گے کیونکہ این سی بی کے ذریعے بڑے پیمانے پر ہفتہ وصولی کی جارہی، اگر اس کی تفتیش ہوگی تو مزیدبڑے انکشافات ہونگے۔

نواب ملک نے کہا کہ این سی بی کے گواہ نے جس طرح سے انکشاف کیا وہ نہایت سنگین ہے۔ جب سے سمیر وانکھیڑے اس محکمہ میں آئے ہیں فلم انڈسٹری کو نشانہ بنا رہے ہیں۔مہاراشٹر حکومت کو بدنام کرنے کی سازش رچی جارہی ہے اور کروڑوں روپئے وصولے جا رہے تھے۔ نواب ملک نے کہا کہ دو مقدمات شروع ہیں لیکن سال بھر کے دوران کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ لوگوں کو بلایا جاتا ہے اور ان سے پیسے لیے جاتے ہیں۔ جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں۔اگر انکوائری ہوئی تو مزید انکشافات ہوں گے۔ ہم وزیر اعلیٰ سے ایس آئی ٹی کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کریں گے۔واضح رہے کہ مرکزی گواہ اور کے پی گوساوی کے باڈی گارڈ کے ذریعے کئے گئے انکشاف سے آرین خان ڈرگس معاملے میں نیا موڑ آگیا ہے۔ باڈی گارڈ پربھاکر نے سائل نے این سی بی کے دفتر میں پنچ نامہ پیپر ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے سادے کاغذات پر زبردستی دستخط لینے کا حلفی بیان دیا ہے۔ پربھاکر سائل کروز کارروائی معاملے میں پہلے نمبر کا پنچ اور پنچ کرن گوساوی کا باڈی گارڈ ہے۔

دوسری جانب سے این سی پی کے ریاستی صدر اور وزیرآبپاشی جینت پاٹل نے بھی اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بہتر ہوا اصل صورتحال لوگوں کے سامنے آنا شروع ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ٹی وی دیکھ کر یہ اندازہ ہورہا ہے کہ کس طرح مرکزی حکومت اپنی ایجنسیوں کے ذریعے لوگوں سے پیسے وصولتی ہے اور اپنے ایجنسیوں کا غلط استعمال کرتی ہے۔کروز ڈرگس کیس میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا انہیں پکڑ کر لے جانے میں بی جے پی کے لوگ آگے آگے تھے۔ اس کے بعد اگر اس طرح پیسوں کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو بہت سے لوگوں کے اس معاملے میں شامل ہونے کے خدشے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading