NCP Urdu News 20 May 21

اتحاد میں تنازعہ تلاش کرنے والے بس انتظار کریں، حکومت پانچ سال مکمل کرے گی: نواب ملک

مراٹھا ریزرویشن پر دیوندرفڈنویس اپنی گھٹیا سیاست بند کریں

ممبئی: کورونا بحران کے دوران ریاستی حکومت کی کارکردگی کی تعریف نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی ہورہی ہے۔ لیکن اس تعریف وستائش کے پسِ منظر میں بھی کچھ لوگوں کو معلوم نہیں کیسے یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ریاست میں مہاوکاس اگھاڑی کے درمیان کوئی تنازعہ ہے۔ جن لوگوں کو ایسا محسوس ہورہا ہو انہیں ہمارا بس یہی مشورہ ہے کہ وہ لطف اٹھائیں۔ ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت اپنی پانچ سال کی معیاد مکمل کرے گی۔ یہ باتیں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کہی ہیں۔

نواب ملک نے کہا کہ ’نہ نَو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی‘۔ اگھاڑی حکومت مکمل طور پر مستحکم ہے اور تینوں پارٹیوں میں آپسی اتحاد نہایت مضبوط ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ریاست کے لوگوں کا اعتماد مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے ساتھ ہے اور ریاست کی عوام حکومت کی کارکردگی کو نہ صرف پسند کرتی ہے بلکہ اس میں اپنی حدتک تعاون بھی کرتی ہے۔ اس لحاظ سے ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت شیوسینا، این سی پی وکانگریس کی نہیں بلکہ ریاست کے عوام کی ہے اور ریاست کے عوام کی ضمانت ہی حکومت کے استحکام کی ضمانت ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ جب ریاست میں مہاوکاس اگھاڑی حکومت کی تشکیل ہورہی تھی تو وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے نے کہا تھا کہ یہ حکومت 25سال تک چلے گی۔ اس لیے مخالفین کو اور جو لوگ زبان نکالے ہوئے انتظار کررہے ہیں انہیں ہمارا مشورہ ہے کہ وہ پچیس سالوں تک انتظار کریں۔ انہوں نے کہا کہ نرائن رانے بی جے پی کے ساتھ ہیں، کس طرح اور کس حد تک انتظار کرنا ہے؟ یہ انہیں بہت اچھی طرح معلوم ہے۔ بی جے پی کو ان سے سبق لینا چاہیے۔ 25سال کا عرصہ کس طرح گزارا جائے؟ یہ نرائن رانے بہت اچھی طرح سکھاسکتے ہیں۔

نواب ملک نے کہا مراٹھاریزرویشن کے معاملے میں دیوندرفڈنویس دونوں سمت کھیل رہے ہیں۔ ایک جانب وہ مراٹھا برادری کو ورغلارہے ہیں تو دوسری جانب اوبی سی برادری کو مشتعل کازررہے ہیں۔ فڈنویس اپنی یہ گھٹیاسیاست بندکریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا پہلے سے ہی یہ موقف ہے کہ اوبی سی طبقے کے ریزرویشن میں کسی دخل کے بغیر مراٹھا برادری کو علاحدہ ریزرویشن دیا جانا چاہیے۔ مگر بی جے پی ودیوندرفڈنویس اس معاملے میں صریح طور پر مراٹھا اور اوبی سی طبقے کو ورغلارہے ہیں اورانہیں مشتعل کررہے ہیں۔ نواب ملک نے کہا کہ دیوندرفڈنویس کو وزیراعظم سے یہ اپیل کرنی چاہیے کہ وہ سپریم کورٹ میں مراٹھاریزرویشن کے حق بہ جانب ہونے کا حلف نامہ داخل کریں، مگر وہ ایسا کرنے کے بجائے دونوں طبقات کو مشتعل کررہے ہیں۔ یہ ان کی گھٹیا سیاست کی ایک مثال ہے جو نہ صرف دونوں طبقات سمجھ رہے ہیں بلکہ ریاست کی عوام بھی سمجھ رہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading