NCP Urdu News 20 March 24

آئین کے اقدار کو پامال کرنے والی پارٹی کو سپریم کورٹ کی پھٹکار

اگر آپ میں ذرا بھی غیرت ہے تو گھڑی انتخابی نشان کا استعال ترک کیجئے: مہیش تپاسے

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد چندر پوار کے چیف ترجمان مہیش تپاسے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے اقدار کو پامال کرنے والی اجیت پوار کی پارٹی کو سپریم کورٹ نے کل سخت پھٹکار لگائی ہے۔ اس کے بعد اگر ان میں ذرا بھی غیرت باقی ہے تو گھڑی انتخابی نشان کو وہ ترک کردیں۔ وہ میڈیا نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔

مہیش تپاسے نے کہا کہ اصلی این سی پی بمقابلہ جعلی این سی پی کیس سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ جج نے کل اہم فیصلہ سنایا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) شرد چندر پوار پارٹی کو دیا گیا توتاری بجاتا ہوا آدمی کا نشان لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے لیے برقرار رکھا ہے اور کوئی دوسری پارٹی اس کا استعمال نہیں کرسکتی ہے۔ تپاسے نے مزید کہا کہ اجیت دادا پوار کے گروپ نے اصل راشٹر وادی پارٹی اور انتخابی نشان گھڑی کو ہڑپ لیا ہے جسے پوار صاحب نے بڑی محنت مشکل سے بنایا تھا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے ذریعے فروری مہینے میں اجیت پوار کو اصل نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور انتخابی نشانی دیئے جانے کے بعد شردپوار نے سپریم کورٹ میں عرذداشت داخل کی تھی۔ اس پر سماعت کے دوران عدالت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے اجیت پوار کی این سی پی کو زور دار جھٹکا دیا ہے۔

مہیش تپاسے نے کہا کہ گھڑی انتخابی نشان کی علامت کے استعمال کے حوالے سے شرائط و ضوابط کو لاگو کر دیا گیا ہے اور اجیت پوار گروپ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مراٹھی، ہندی اور انگریزی زبانوں میں ایک اخبار کے ذریعے پبلک نوٹس شائع کرے اور اس بات کی وضاحت کرے کہ گھڑی انتخابی نشان سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ آئین کے دسویں شیڈول کی عدم تعمیل پارٹی کی تقسیم کا باعث بنے گی۔

مہیش تپاسے نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اجیت پوار گروپ اور دیگر پارٹیوں کے باغی لوگوں کے لیے ایک بڑا طمانچہ ہے۔

مہیش تپاسے نے کہا ہے کہ اگر خود میں اتنی اہلیت ہوتی تو اجیت پوار ہنسی خوشی الگ ہوتے اور خود کی پارٹی تشکیل دی ہوتی۔ لیکن ’غیر مرئی‘ قوت کے دباؤ میں آکر پوار صاحب کو تکلیف دینے کا راستہ انہوں نے اختیار کیا جس کا ہم سب کو دکھ ہے۔

مہیش تپاسے نے کہا کہ 1999 میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی بنیاد عزت نفس کے پر رکھی گئی تھی اور اس عزت نفس کو پوار صاحب نے ہمیشہ محفوظ اور مقدم رکھا۔ مہیش تپاسے نے چیلنج کرتے ہوئے کہا اگر ایک فصید بھی عزت نفس باقی ہے تو اجیت دادا ور ان کی پارٹی کے کارکنوں میں اگر ایک فیصد بھی عزت نفس باقی ہے تو وہ گھڑی کا انتخابی نشان چھوڑ کر نیا انتخابی نشان اختیار کریں اور الیکشن میں ہمارے سامنے کھڑے ہوں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading