شیوجینتی کے موقع پر این سی پی کی دادر سے چمبور تک ’شیوسمّان شوبھا یاترا‘ کا انعقاد

این سی پی کے ’سوراجیہ سپتاہ‘ کا آغاز، مختلف تقاریب کے ذریعے ہفتہ منایا جائے گا

ممبئی کی ’شوبھا یاترا‘ میں نوجوانوں کی شاندار موٹر سائیکل ریلی، اہم لیڈران کی شرکت

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی جانب سے شیوجینتی کے موقع پر دادر سے چمبور تک ’شیوسمّان شوبھا یاترا‘ نکالی گئی۔ اس یاترا کا آغاز دادر کے شیواجی پارک میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کو خراج عقیدت پیش کرنے سے ہوا۔ ڈھول تاشوں کی گونج، شیواجی مہاراج کے دور کے جنگی ہتھیاروں کے مظاہرے اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ’سوراجیہ سپتاہ‘ سے متعلق جھنڈوں سے سجا ہوا شیواجی پارک عوام سے کھچا کھچ بھرا نظر آیا۔

’شوبھا یاترا‘ کے آغاز پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے قومی کارگزار صدر و رکن پارلیمنٹ پرفل پٹیل، سینئر لیڈر اور سابق وزیر چھگن بھجبل، سابق وزیر نواب ملک، ممبئی کے کارگزار صدر سدھارتھ کامبلے نے کرین کی مدد سے شیواجی مہاراج کے مجسمے پر پھول چڑھائے۔ بعد ازاں پارٹی رہنماؤں نے شیوسینا کے بانی، مرحوم بالاصاحب ٹھاکرے کی سمادھی پر پہنچ کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

یہ ’شیوسمّان شوبھا یاترا‘ دادر کے شیواجی پارک سے نکل کر چمبور میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے پر خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔ چمبور میں اس یاترا کا استقبال ایم ایل اے ثنا ملک شیخ، سابق وزیر نواب ملک اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے دیگر عہدیداران نے کیا۔ چمبور ناکہ سے چھترپتی شیواجی مہاراج چوک تک یہ ریلی انتہائی شاندار اور منظم انداز میں نکالی گئی، جس میں نوجوانوں نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔

اس موقع پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے قومی کارگزار صدر و رکن پارلیمنٹ پرفل پٹیل، سینئر لیڈر و سابق وزیر چھگن بھجبل، سابق وزیر نواب ملک، ممبئی کارگزار صدر سدھارتھ کامبلے، ایم ایل اے شیواجی راؤ گرجے، ایم ایل اے پنکج بھجبل، چیف ترجمان آنند پرانجپے، ریاستی جنرل سیکریٹری سنتوش دھوالی، ریاستی ترجمان سنجے تٹکرے، جنوبی ممبئی ضلع صدر مہندر پانسرے، ضلع صدر ارشد امیر، خواتین ضلع صدر پوجا پوار، خواتین ضلع صدر کامنی جادھو سمیت پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے۔

انجلی دمانیا کا ایک بار پھر ادھورے علم اور جھوٹے الزامات کا مظاہرہ

’انجلی میڈم پہلے حکومت کے جی آر جاری کرنے کے عمل کو تو سمجھ لیجیے‘

دھننجے منڈے نے انجلی دمانیا کے الزامات کی تردید کی

ممبئی: انجلی دمانیا نے آج ایک بار پھر اپنے ادھورے علم کی بنیاد پر جھوٹ بولتے ہوئے حکومت کا جی آر نکالنے سے متعلق جو الزامات لگائے ہیں، وہ مکمل طور پر غلط ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنی ادھوری معلومات کی بنیاد پر جھوٹے الزامات لگاتی رہی ہیں، اس بات کی وضاحت وزیر دھننجے منڈے نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی قواعد و ضوابط (رُولز آف بزنس) کے مطابق جی آر یعنی سرکاری حکم نامہ جاری کرنے کے لیے ایک طے شدہ طریقہ کار ہوتا ہے، جس کے تحت ایک منظم عمل طے کیا گیا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے دھننجے منڈے نے کہا کہ کسی بھی معاملے میں متعلقہ شعبے کا افسر فائل پیش کرتا ہے، جو بعد میں محکمہ کے نائب سیکرٹری، سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے ذریعے وزیر کے سامنے منظوری کے لیے آتی ہے۔ وزیر کی منظوری کے بعد بھی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے درجے کے آئی اے ایس افسر خود اس فائل کی جانچ کرتے ہیں اور اس کے بعد ہی حکومت کی طرف سے جی آر جاری کیا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ جھوٹ بول کر جی آر نکالا گیا، محض ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ اس طرح کا الزام میڈیا ٹرائل کے سوا کچھ نہیں اور صرف اپنی ادھوری سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنے کے مترادف ہے۔

دھننجے منڈے نے کہا کہ گزشتہ پندرہ سالوں میں انجلی دمانیا نے جتنے بھی میڈیا ٹرائل کیے اور جن پر بھی الزامات لگائے، ان میں سے ایک بھی الزام آج تک کسی بھی عدالت میں یا کسی دوسرے فورم پر ثابت نہیں ہو سکا۔ اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ وہ ہمیشہ ادھوری معلومات پر مبنی الزامات لگاتی ہیں۔ منڈے نے سوال کیا کہ کیا انجلی دمانیا کی پریس کانفرنس ہی حکومت کے فیصلے جاری کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے؟ کسی بھی معاملے پر ریاستی کابینہ میں بحث اور منظوری کے بعد، کابینہ کے اجلاس کی کارروائی کو وزیر اعلیٰ کی منظوری حاصل ہوتی ہے، جس کے بعد ریاست کے سب سے اعلیٰ آئی اے ایس افسر، یعنی چیف سیکرٹری کے دستخط سے اس فیصلے کو جاری کیا جاتا ہے۔ اگر دمانیا نے اس عمل کو سمجھنے کی کوشش کی ہوتی تو وہ ایسے بے بنیاد اور جھوٹے بیانات ہرگز نہ دیتیں۔

دھننجے منڈے نے مزید کہا کہ ’آفس آف پرافٹ‘ سے لے کر دیگر بے بنیاد گھوٹالوں تک، دمانیا ہمیشہ کچھ ادھورے کاغذات دکھا کر انہیں ثبوت کہتی ہیں اور میڈیا ٹرائل چلاتی ہیں۔ اگر ان کے پاس واقعی کوئی ٹھوس ثبوت ہیں تو وہ عدالت میں جائیں۔ اب ہم بھی انہیں قانونی طور پر مناسب جواب دیں گے۔ فَرٹیلائزر کنٹرول آرڈر ایک مرکزی حکومت کا قانون ہے، جس کے مطابق مخصوص سرٹیفکیٹ کے بغیر اور کھاد بنانے والی کمپنی کی منظوری کے بغیر کوئی بھی کھاد فروخت نہیں کر سکتا۔ اس حوالے سے IFFCO نے متعلقہ کمپنیوں کو 2022 اور 2023 میں بھی نوٹسز جاری کیے تھے۔ لیکن دمانیا کا ہمیشہ سے یہی رویہ رہا ہے کہ وہ اپنی سہولت کے مطابق آدھی سچائی بولتی ہیں اور ادھورے علم کا مظاہرہ کرتی ہیں، جو کہ محض بدنامی کی مہم چلانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

دھننجے منڈے نے کہا کہ متعلقہ کمپنیاں ہمارے تیار کردہ کھاد فروخت کرنے کے لیے مجاز نہیں ہیں۔ فَرٹیلائزر کنٹرول آرڈر کے تحت بغیر مجاز سرٹیفکیٹ کے ایسی کھاد فروخت نہیں کی جا سکتی۔ اس حوالے سے ایک پریس ریلیز ہمارے ذاتی معاون نے نہیں بلکہ خود IFFCO نے پہلے ہی جاری کی تھی اور آج بھی یہ معلومات IFFCO کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ انجلی دمانیا کو بھی اس کا علم ہوگا، لیکن اس کے باوجود جھوٹ بولنا اور زبردستی جھوٹ پر اَڑے رہنا ان کی عادت بن چکی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading