ممبئی:این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک کی صاحبزادی ثناء ملک شیخ نے اپوزیشن لیڈر دیوندرفڈنویس کے اس دعوے کو مکمل جھوٹ قرار دیا ہے کہ ڈاکٹر مدثر لامبے کو ریاستی حکومت یا ان کے والد نے وقف بورڈ میں لیا تھا۔ثناء ملک شیخ نے ایک ٹوویٹ کرتے ہوئے ڈاکٹرمدثرلامبے اور دیوندرفڈنویس کی ایک تصویر بھی شیئرکی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ”فڈنویس نے جو آدھا سچ بتایا ہے وہ مکمل جھوٹ ہے۔ وقف بورڈ میں ڈاکٹر مدثرلامبے کی نامزدگی 13ستمبر2019کو فڈنویس وبی جے پی حکومت نے کی تھی۔ جبکہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کا قیام نومبر2019میں ہوئی تھی اور میرے والد کو جنوری 2020کے پہلے ہفتے میں وقف بورڈ کی ذمہ داری دی گئی تھی“۔

واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈردیوندرفڈنویس نے اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں آج ایک اور پین ڈرائیو پیش کیا جس کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس میں دو لوگوں ڈاکٹر مدثر لامبے اورارشد خان نامی شخص کے درمیان بات چیت کا ریکارڈ ہے اور ڈاکٹر مدثر لامبے کا تعلق داؤد ابراہیم سے ہے جنہیں ریاستی حکومت نے وقف بورڈ میں شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاتون سماجی ورکر نے ڈاکٹر مدثرلامبے کے خلاف عصمت دری کی شکایت درج کرائی ہے۔فڈنویس نے پین ڈرائیو میں ریکارڈ بات چیت کو بھی اسمبلی میں پڑھ کر سنایا۔ فڈنویس کے مطابق اس پین ڈرائیوریکارڈ بات چیت میں دو کردار ہیں جس میں سے ایک کانام محمد ارشد خان ہے جبکہ دوسرے کا نام ڈاکٹرمدثرلامبے ہے جنہیں اقلیتی امور کے وزیر نے وقف بورڈ کا ممبربنایا ہے۔ 31دسمبر2020کو ڈاکٹرلامبے کے خلاف ایک خاتون نے عصمت دری کی شکایت درج کرائی تھی۔

دیوندرفڈنویس کے اس الزام کے فوراً بعد نواب ملک کی صاحبزادی نے فڈنویس کے اس الزام کابخیہ ادھیڑ دیا۔ ثناء ملک نے فڈنویس کے ساتھ ڈاکٹرمدثرلامبے کی تصویر شیئرکرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ دیوندرفڈنویس ڈی گینگ سے متعلق اورعصمت دری کے ملزم کے ساتھ۔ ثناء ملک کے اس ٹوویٹ کے بعد فڈنویس کے دعوے کا غبارہ پچک سا گیا ہے اور تادمِ تحریر ان کی جانب سے اس پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔