ہم 2024 میں بھی چمتکار کریں گے: نواب ملک

ممبئی:این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے حزبِ مخالف لیڈر دیوندرفڈنویس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیوندرفڈنویس نے شردپوار کے بارے میں کہا تھاکہ ان کی سیاست ختم ہوچکی ہے لیکن اس وقت چمتکار ہوا تھا۔

اب وہ دوبارہ پوار صاحب پر تنقید کرنا شروع کررہے ہیں۔ فڈنویس جب بھی پوار صاحب پر تنقید کرتے ہیں معجزہ ہوتا ہے۔ ہم 2024کے پارلیمانی انتخاب میں چمتکار کریں گے۔ واضح رہے کہ دیوندرفڈنویس نے شردپوار پر تنقید کی تھی جس پرنواب ملک ردعمل کا اظہار کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ شردپوار اور این سی پی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ شردپوار وزیراعظم ہونگے۔ اس کے برخلاف شردپوار ملک کے تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈران ایک ساتھ لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس سے تمام اپوزیشن کی پارٹیاں ایک ساتھ آئیں گی اور مودی اقتدار سے بے دخل ہونگے۔ میں دیوندرفڈنویس کو یا ددلانا چاہتا ہوں کہ جب وہ اسکول میں تھے تو 1984میں لوک سبھا کے انتخاب میں بی جے پی کے ممبرانِ پارلیمنٹ کی تعداد صرف دو تھی۔ کیا آپ بھول گئے کہ اس وقت آپ کے ایم پی سائیکل پر بیٹھ کر پارلیمنٹ جاتے تھے؟واب ملک نے کہا کہ دیوندرفڈنویس کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ جمہوریت ہے، کوئی آبِ حیات پی کر اقتدار کی کرسی پر نہیں بیٹھتا ہے۔آنے والے پارلیمانی انتخاب میں ملک کی عوام ایک زبردست تبدیلی کی منتظر ہے اور یہ تبدیلی ضرور بالضرور رونما ہوگی۔

’گنگا نے بلایا ہے ‘کہنے والے آج تک گنگاندی صاف تک نہیں کرسکے: نواب ملک

ممبئی: وزیراعظم مودی نے ساڑھے سات سال قبل کہا تھاکہ انہیں گنگا نے بلایا ہے۔ لیکن آج تک وہ گنگاندی کو صاف تک نہیں کرسکے۔ یہ تنقید آج یہاں این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کی ہے۔ وزیراعظم مودی کے بنارس پہنچنے پر میڈیا کے نمائندوں نے نواب ملک سے ان کا ردعمل جاننا چاہا تو انہوں نے یہ باتیں کہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ نریندرمودی ملک کے وزیراعظم ہیں۔ بنارس ان کا حلقہئ انتخاب ہے۔ سوال یہ ہے کہ ساڑھے سات سال ہوگئے ہیں۔ کاشی کے بارے میں وعدہ کیا گیا تھا لیکن ان وعدوں کا بھی کچھ نہیں ہوا۔ بارش کے دنوں میں پورے بنارس میں گھٹنوں تک پانی بھرجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخاب میں انہیں کم ازکم چارجگہوں نے شکست کھانی پڑی گی۔ جس جگہ سے وہ الیکشن لڑیں گے ایک تو وہ وہاں سے شکست کھائیں گے اور اطراف کی ۴جگہیں بھی بی جے پی ہارنے والی ہے۔

میڈیا کے نمائندوں کے ایک سوال کے جواب میں نواب ملک نے کہا کہ مجھے عدالتی نظام پر مکمل بھروسہ ہے۔ مجھے عدالت کا حکم موصول نہیں ہوا ہے۔ جب عدالت کا حکم نامہ موصول ہوگا اس وقت اگلا قدم اٹھائیں گے۔ نواب ملک نے کہا کہ ملک کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا؟ اس بارے میں کوئی چرچا نہیں ہورہی ہے۔ اجتماعی قیادت کے تحت متحد ہونے کی تیاری شروع ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ٹی ایم سی آپ کے ایم ایل اے توڑ رہی ہے۔ جو ایم ایل اے ٹی ایم سی میں گئے ہیں وہ پانچ سال قبل ہماری پارٹی میں آئے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ان کے ساتھ ان کی بیٹی کو بھی ٹکٹ دیا جائے لیکن گووا میں ہماری کانگریس کے ساتھ اتحاد کی کوشش چل رہی ہے اس لئے انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ انہیں دو ٹکٹ نہیں مل سکتا ہے۔نواب ملک نے کہا کہ پرشانت کشور انتخابی حکمت عملی بنانے والے شخص ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ وہ جوکہیں گے وہی ہوگا۔ ملک میں 2014میں یوپی اے کے خلاف جس طرح کی فضا تیار ہوئی تھی اسی طرح کی فضا تیار کرنے کی کوشش شروع ہے۔ سنجے راؤت پر دہلی میں ایف آئی آر درج ہونے پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نواب ملک نے کہا کہ جس لفظ کے استعمال پر سنجے راؤت کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے اسی لفظ کا استعمال اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی کیا تھا۔ اس لئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوگی پر بی جے پی کب ایف آئی آر درج کرتی ہے۔ جس جرنلسٹ کے لئے یوگی نے اس لفظ کا استعمال کیا تھا اسے یوگی کے خلاف شکایت درج کرانی چاہئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading