یوگی دو بچوں کا قانون لانے کے بجائے زیادہ بچے پیدا کرنے والا قانون لائیں

ناناپٹولے نے معلومات کی فقدان کی وجہ سے الزام عائد کیا ہے

ممبئی:این سی پی کے سربراہ شردپوار کے ایک بیان کے بعد بی جے پی کے سابق وزیر آشیش شیلار نے ’چور کی داڑھی میں تنکا‘ کا تبصرہ کیا ہے۔ ہم آشیش شیلار سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ داڑھی والا چور کون ہے؟ وہ اس کا نام بھی بتائیں۔ یہ باتیں آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیرنواب ملک نے کہی ہیں۔وہ پارٹی کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

واضح ہوکہ پارٹی کی جانب سے ہرپیر کو پارٹی کے ریاستی دفتر میں پریس کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا۔ آج پہلی ہی پریس کانفرنس میں نواب ملک نے بی جے پی سخت حملہ کیا ہے۔ نواب ملک نے یوگی آدتیہ ناتھ کے دو بچوں والے مجوزہ قانون، امیت شاہ کے ذریعے کوآپریٹیو محکمہ کے لئے بی جے پی کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں اور کانگریس کے ریاستی صدرناناپٹولے کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شردپوار صاحب نے 2013میں یو پی اے حکومت کے دور میں کوآپریٹیو محکمہ کو آئینی درجہ دیتے ہوئے اسے ایک آزادی عطا کی۔اس آزادی پر اگرکوئی قدغن لگانے کی کوشش کرے گا تو وہ آئین کے خلاف ہوگا۔ کوئی بھی آئین سے بالاتر نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص وزیر ہوگیا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اسے تمام اختیارات مل گئے اوروہ قانون سے بلند ہوگیا۔ اس لئے بی جے پی کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ ذمہ دارای سے بولیں۔

یوگی دو بچوں کی پالیسی کے بجائے زیادہ بچے پیدا کرنے کی پالیسی بنائیں

نواب ملک نے کہاکہ اترپردیش میں یوگی حکومت دوبچوں کی پالیسی بنارہی ہے۔ یہ پالیسی مہاراشٹر میں سن 2000میں ہی بنائی جاچکی ہے۔ لیکن یوگی آدتیہ ناتھ دو بچوں کی پالیسی کے نام پر پورے ملک کو الجھن میں ڈال رہے ہیں۔ انہیں دو بچوں کی پالیسی کے بجائے بی جے پی لیڈران کے بیانات کے مطابق زیادہ بچے پیدا کرنے کی پالیسی بنانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یاد دہانی بھی کرائی کہ مہاراشٹریہ پالیسی لاگو ہے کہ اگرکسی شخص کے دوبچوں سے زیادہ ہیں تو وہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا اور سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ نواب ملک نے کہا کہ بی جے پی میں ایسے کئی لیڈران ہیں جن کے ایک بھی بچے نہیں ہیں۔ جبکہ بی جے پی جس آر ایس ایس کی پیداوار ہے، اس میں بھی ایسے لوگ ہیں جن کے بچے نہیں ہیں۔ دو بچوں کی پالیسی کئی ریاستوں میں ہے۔ اس لئے یوگی کو ’بچے نہیں‘ کی پالیسی بنانی چاہئے کیونکہ جن کے بچے نہیں ہیں انہیں اس سے تحریک ملے گی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی ساکشی مہاراج ہوں یا ان کی طرح دیگرلوگ، وہ بارہا یہ زیادہ بچے پیدا کرنے کے بیانات دیتے رہتے ہیں۔یوگی جی کو پالیسی بنانے سے پہلے ان سے مشورہ کرلینا چاہئے۔

ناناپٹولے کو معلومات کا فقدان ہے

کانگریس کے ریاستی صدرناناپٹولے نے معلومات کی فقدان کی وجہ سے الزام عائدکیا ہے۔ واضح ہوکہ پٹولے نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی سرگرمیوں پر وزیراعلیٰ ووزیرداخلہ کی جانب سے پہرہ بٹھایا گیا ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ حکومت چاہے کسی کی بھی ہو، سیاسی پروگرام، احتجاج ومظاہرہ نیز اجلاس وغیرہ کے تعلق سے لیڈران کی سرگرمیوں کی معلومات رکھنے کے لئے پولیس کا ایک محکمہ رہتا ہے۔ وہ تمام پارٹیوں کی معلومات یکجا کرکے متعلقہ محکمہ کو اس کی رپورٹ کرتے ہیں اور پوری معلومات محکمہ داخلہ کے پاس جمع ہوتی ہے۔ اگر یہ سسٹم ناناپٹولے کو معلوم نہیں ہے تو وہ اپنی پارٹی کے سابق وزیراعلیٰ اشوک چوہان، سوشیل کمار شندے وپرتھوی راج چوہان سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر ناناپٹولے کو ایسا محسوس ہوتا ہو کہ ان کے پروگرام میں پولیس موجود نہ رہے، ان کے لیڈران ووزراء کو پولیس کا تحفظ نہیں چاہئے تو اگروہ اس کی درخواست دیتے ہیں تو وزیرداخلہ اس پر مناسب فیصلہ کریں گے۔