برطانوی مزاج کی موجودہ حکومت کو بے دخل کرنے کا وقت آگیا ہے
جمہوریت کے تحفظ کی اس جنگ میں ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے
شرد پوار صاحب کو ماننے والے کارکن آج بھی ان کے ساتھ ہے:جینت پاٹل
ممبئی:مہاتما گاندھی نے 9 اگست 1942 کو انگریزوں کے خلاف ہندوستان چھوڑو تحریک شروع کی تھی۔ برطانوی راج چونکہ عوامی مفاد کے خلاف تھی اس لیے اس کے خلاف تحریک چلائی گئی تھی۔ فی الوقت ملک وریاست کی حکومتیں بھی انگریزوں کی مانند کام کررہی ہے، اس لیے ملک کی عوام ایک بار پھر تحریک چلانے کے لیے ایک ساتھ آرہی ہے۔ یہ باتیں این سی پی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے کہی ہیں۔
کانگریس کے ممبئی کنونشن میں مہاتما گاندھی نے ہندوستان چھوڑو تحریک کا آغاز کیا تھا۔ قوم سے اپنے خطاب میں گاندھی جی نے کرو یا مارو کی اپیل کی۔ اگست کرانتی میدان، جس نے اس تاریخی واقعہ کو دیکھا، وہاں جاکر جینت پاٹل نے ان تمام مجاہدین آزادی کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے آزادی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔اگست کرانتی میدان میں مجاہدین آزادی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے جارہے مہاتماگاندھی کے پڑپوتے تشارگاندھی کو سانتاکروڑ پولیس نے حراست میں لے لیا۔جینت پاٹل نے کہا کہ اس وقت کی لڑائی انگریزوں کے خلاف تھی اورآج کی لڑائی جمہوریت کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف ہے۔ جمہوریت کے تحفظ کی اس لڑائی سے ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
جینت پاٹل نے کہا کہ جس طرح مہاتما گاندھی نے انگریزوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا اسی طرح انگریزوں کی ہی طرح حکومت کرنے والے آج کے حکمرانوں کوبھی ہم اقتدارسے بے دخل کردیں گے۔ ملک کی آزادکرانے کے لیے سینکڑوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہزاروں لوگ جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔اس ملک کی حکومت عوام کے مفاد کو پیشِ نظر رکھنے والی حکومت نہیں بلکہ ان کا استحصال کرنے والی حکومت ہے۔ برٹش حکومت کے خلاف مہاتماگاندھی کی قیادت میں بھارت چھوڑو آندولن کیا گیا تھا۔ اتفاق سے آج مہاتماگاندھی کے پڑپوتے تشارگاندھی کو سانتاکروز پولیس نے ان کے گھر سے حراست میں لے لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتفاق ہے یا پھر وہی صورت حال ایک بار پھر پیدا ہوگئی ہے؟
جینت پاٹل نے مزید کہا کہ برطانوی دور حکومت میں جنوبی ممبئی میں کئی بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کی گئی تھیں۔سڑکیں، پانی کا نظام، لائیٹ، ہائی وے وغیرہ تعمیر ہوئے گویا اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس وقت ترقی ہوئی تھی اورآج بھی ایک طبقہ ہے جو مانتا ہے کہ موجودہ حکومت ترقیاتی کام کررہی ہے۔ لیکن حکمرانوں کی سوچ کے مطابق ترقیاتی کاموں کی پیمائش کی جاتی ہے، جس طرح انگریزوں کی حکومت اپنے ترقیاتی کاموں کے باوجود عوامی مفاد کے خلاف تھی اور ا س کے خلاف تحریک چلی اسی طرح آج کی حکومت بھی ہے جس کے خلاف تحریک شروع ہوچکی ہے۔
جینت پاٹل نے کہا کہ این سی پی کے تمام کارکنوں کو متحد ہو کر پارٹی کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہیے۔بہت سے لوگ پارٹی چھوڑ چکے ہیں، کچھ دور رہنے کے موڈ میں ہیں، جب کہ کچھ مضبوطی سے ہمارے ساتھ ہیں۔ جو لوگ ہمارے ساتھ مضبوطی سے ہیں ان کو پارٹی کی ترقی کے لیے بہت سی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ جینت پاٹل نے یہ بھی کہا ہے کہ ممبئی کے تمام عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ ہر وارڈ میں این سی پی کو مضبوط کریں اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری شروع کردیں۔
جینت پاٹل نے مزید کہا کہ این سی پی کے قومی صدر شرد پوار صاحب کو ماننے والے کارکن آج بھی این سی پی سے جڑے ہوئے ہیں۔ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر میں شرد پوار صاحب کی حمایت کرنے والے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ہے، اس لیے کوئی کہیں بھی جائے، این سی پی کا کارکن شردپوار صاحب کے ساتھ ہی ہے۔اقتدار رہے یانہ رہے، پارٹی کا کارکن مضبوط کے ساتھ پوار صاحب کے ساتھ کھڑا ہوا نظر آتا ہے۔جینت پاٹل نے یہ بھی کہا ہے کہ کارکنان کو آئندہ میونسپل لوک سبھا اور ودھان سبھا انتخابات کی تیاری شروع کردینی چاہئے۔