راہل گاندھی کو جان سے مارنے کی دھمکی کے خلاف علامتی طور پر پھول نچھاور کر کے انوکھا احتجاج
ممبئی: ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین کی قیادت میں آج دادر کے علاقے میں واقع وسنت اسمرتی بی جے پی دفتر کے سامنے یوتھ کانگریس کارکنوں نے زبردست احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران کارکنوں نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے راہل گاندھی کو گولی مارنے کی دھمکی دینے والوں کے خلاف سخت مذمت کا اظہار کیا اور بی جے پی دفتر کے سامنے علامتی طور پر پھول نچھاور کر کے اپنا احتجاج درج کرایا۔
اطلاعات کے مطابق یوتھ کانگریس کی جانب سے احتجاج کے اعلان کے بعد پولیس نے علاقے میں سخت بندوبست کیا تھا۔ اس کے باوجود زینت شبرین کی قیادت میں کارکنان بی جے پی دفتر کے قریب پہنچے اور بھرپور نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، مگر کسی قومی لیڈر کو جان سے مارنے کی دھمکی دینا انتہائی سنگین معاملہ ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ بعد میں پولیس نے متعدد یوتھ کانگریس کارکنوں کو حراست میں لے کر بھوئی واڑہ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔ اس موقع پر زینت شبرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی دفتر کے سامنے پھول نچھاور کرنا ایک علامتی پیغام تھا کہ نفرت اور تشدد کی سیاست کو مہاراشٹر میں کوئی جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو جان سے مارنے کی دھمکی دینا جمہوری اقدار پر حملہ ہے اور اس معاملے میں فوری طور پر مقدمہ درج کر کے سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
زینت شبرین نے الزام لگایا کہ پولیس کا رویہ جانبدارانہ ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی کارکنوں کو احتجاج کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے، جبکہ کانگریس کارکنوں کے خلاف پیشگی کارروائی کی جاتی ہے، انہیں گھروں سے اٹھایا جاتا ہے اور احتجاج سے قبل ہی حراست میں لے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو سیاسی کارکنوں کو روکنے کے بجائے ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو راہل گاندھی کو جان سے مارنے جیسی سنگین دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوتھ کانگریس جمہوریت اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور نفرت کی سیاست کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی۔