MPCC Urdu News 8 Nov 22

15

بھارت جوڑو یاترا کے استقبال کے لیے ٹاکلی-ناندیڑ روڈپر لوگوں کا ہجوم امڈ پڑا

ناندیڑ میں ہرجانب ’نفرت چھوڑو،بھارت جوڑو‘ کے نعرے کی زبردست گونج

ونّالی، (ضلع ناندیڑ): مہاراشٹر میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کو مل رہا عوام کا زبردست تعاون اس وقت دیکھنے کو ملا جب اس یاترا کے دوسرے دن ٹاکلی-ناندیڑ روڈ پر لوگوں کا جم غفیر امڈپڑا۔روڈپر ۴سے ۵کلومیٹر تک لوگوں اور گاڑیوں کی طویل قطار نظر آئی۔ اس یاترا میں کانگریس کارکنان کی بڑی تعداد کے علاوہ بچوں، نوجوانوں اور ان کے والدین بڑے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔یہ عوامی سیلاب راہل گاندھی کی قیادت والی بھارت جوڑو یاترا کی حمایت کے لیے سڑکوں پر اترا تھا۔

پد یاترا منگل 8 نومبر کو صبح 8.30 بجے ونالی گوردوارہ سے شروع ہوئی۔ یاترا میں بچوں، خواتین اور نوجوانوں نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ وجرگا پہنچنے کے بعد یاترا میں شامل لوگوں نے صبح 9.30 بجے آرام کیا۔ ایک بار پھر یہ یاترا شام چار بجے بڑے دھوم دھام سے کھتگاؤں پھاٹا سے شروع ہوئی۔

سیوادل کے جنرل سکریٹری کرشن کمار پانڈے کا یاترا کے دوران انتقال ہوگیا۔ شام کو ان کی تعزیت ک لیے منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے انہیں یاترا کا شہید قراردیا جبکہ مہاراشٹر کانگریس کی جانب سے ان کے اہلِ خانہ کو 25لاکھ روپئے کی مدد کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے بی جے پی وآر ایس ایس پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ لوگ ملک میں ڈر پیدا کرکے اس کو نفرت میں تبدیل کررہے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر ڈر نہیں ہوگا تو نفرت نہیں ہوسکتی اور اگر ڈر ہے تو اسے نفرت میں آسانی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ بی جے پی وآر ایس ایس کے لوگ اس ملک میں وہی کررہے ہیں۔ راہل گاندھی نے اس موقع پر نوٹ بندی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آج سے ٹھیک ۶سال پہلے نریندرمودی نے نوٹ بندی کی تھی، نعرہ لگایا تھا بلیک منی کی واپسی کا لیکن ان کی نوٹ بندی دراصل چھوٹے کاروباریوں، کسانوں وغریب مزدورں کے خلاف تھی۔ نوٹ بندی کی سزا آج تک ملک بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج میں کسانوں، نوجوانوں اور عام لوگوں سے ملتا ہوں تو وہ اپنا درد بتاتے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ہمارا قرض معاف نہیں ہوتا لیکن پونجی پتیوں کا قرض منٹوں میں معاف ہوجاتا ہے۔ یہی حال نوجوانوں کا ہے انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی روزگار کا کوئی موقع نظر نہیں آتا۔ نریندرمودی کی حکومت نے ملک میں مایوسی اور ڈر پیدا کردیا ہے اور اسی کو وہ نفرت کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ اسی نفرت کو ختم کرنے اور بھارت کو جوڑنے کے لیے ہم نے یہ یاترا نکالی ہے۔

کھتگاؤں ہائی اسکول کے طلباء اسکولی یونیفارم میں پیدیاترا میں چلنے والوں کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ انہوں نے تالیاں بجا کر اورتھوڑا جھک کر ’ویلکم سر، ویلکم سر‘ کہہ کر راہل گاندھی کا استقبال کیا۔اس موقع پر چھترپتی شیواجی مہاراج کے بھیس میں گھوڑے پر سوار لڑکیوں کے ایک گروپ نے سب کی توجہ مبذول کرلی۔ ایک اسٹیج پر مہاراشٹر کی عظیم شخصیات چھترپتی شیواجی، مہاتما جیوتی با پھلے، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اورانابھاؤ ساٹھے کے بھیس میں مہاراشٹر کی ثقافت کو پیش کیا جا رہا تھا۔

تقریبا 45 منٹ پیدل چلنے کے بعد جب پد یاترا بھوپال کی پہاڑی پر پہنچی تو یاترا کے استقبال کے لیے کھڑے ماؤلے کے لباس میں کھڑے گھڑسواروں نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔ جیسے ہی جلوس قریب آیا انہوں نے تیز رفتار گھوڑے پر سوارہوکر نعرے بلند کئے۔ ایک جگہ ایک بزرگ گروپ نے شہنائی اور تاشہ کے روایتی سازوں سے سب کا استقبال کیا۔پورے راستے بھر میں راہل گاندھی کے جھنڈے، کٹ آؤٹ، پوسٹر اور بینرزنظر آئے۔