مراٹھا ریزرویشن پر فیصلہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ہی لیا جائے:

فڈنویس جان بوجھ کر مراٹھا ریزرویشن کے تعلق سے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں

بی جے پی مراٹھا اور دھنگر برادریوں سے ریزرویشن کے جھوٹے وعدے کرکے اقتدار میں ہے

ممبئی:مراٹھا برادری کے ریزرویشن کا معاملہ خود بی جے پی کی حکومت نے ہی الجھایا ہوا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی ریزرویشن مخالف پارٹی ہے اس لیے وہ اسے نہیں دینا چاہتی۔ بی جے پی پچھلے 9 سالوں سے مرکز میں برسراقتدار ہے لیکن اس نے مراٹھا ریزرویشن کے تعلق سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر بی جے پی مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے کی خواہش رکھتی ہے تو اسے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ہی اس پر فیصلہ لینا چاہئے اور مراٹھا برادری کے ساتھ انصاف کرنا چاہئے۔

پیر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ اگر مراٹھا برادری سمیت پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دینا ہے تو 50 فیصد کی موجودہ حد کو ہٹانا ہوگا۔ مرکزی حکومت کو اس حد کو ہٹاسکتی ہے لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں لے رہی ہے۔ بی جے پی مراٹھا اور دھنگر برادری سے جھوٹے وعدے کرکے اقتدار میں آئی اور اس کے بعد اس نے اس برادری کو ریزرویشن نہیں دیا۔ مراٹھا ریزرویشن قانون اسمبلی میں عجلت میں پاس ہوا، لیکن یہ سپریم کورٹ میں نہیں ٹھہر سکا۔ دیویندر فڑنویس نے سینہ ٹھونک کر کہا تھا کہ صرف وہی مراٹھا برادری کو ریزرویشن دے سکتے ہیں، لیکن اقتدار میں آنے کے ڈیڑھ سال بعد بھی مراٹھا برادری کو ریزرویشن نہیں دیا گیا ہے۔

پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پیر کو دوبارہ ملاقات کی اور مراٹھا ریزرویشن پر اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کی۔ حکومت نے ایک ماہ کا وقت مانگا ہے لیکن یہ وقت کا ضیاع ہے۔ مراٹھا ریزرویشن کے تعلق سے ایم وی اے حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش مضحکہ خیز ہے۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی طرف سے دیا گیا ریزرویشن عدالت میں بھی برقرار رہے گا، لیکن انہیں جواب دینا چاہیے کہ یہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں ٹھہر سکا؟ فڈنویس نے مرکزی حکومت سے بات کرکے مراٹھا ریزرویشن کو نویں فہرست میں کیوں شامل نہیں کیا؟ بنیادی طور پر یہ واضح ہے کہ بی جے پی مراٹھا برادری کو ریزرویشن نہیں دینا چاہتی۔ حکومتی اجلاس میں کسی ٹھوس فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے مراٹھا برادری کے لیے کیے گئے فیصلوں کی ایک فہرست پڑھ کر سنائی گئی، لیکن ریزرویشن کیسے دیا جائے گا اس پر ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ جالنہ ضلع میں پولیس نے چھوٹے بڑے سب کو بری طرح مارا پیٹا جس کی وجہ سے کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ جان بوجھ کر انجام دیا گیا ہے۔ کچھ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مراٹھا برادری کو او بی سی کوٹہ کے تحت ریزرویشن دیا جائے۔ اس طرح کے بیانات سے دونوں برادریوں میں تصادم پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading