ممبئی: 31 جولائی .مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے مالیگاؤں بم دھماکے کے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ممبئی ریلوے بم دھماکے کے فیصلے کو ریاستی حکومت سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکتی ہے، تو مالیگاؤں بم دھماکے کے فیصلے کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا یا نہیں، یہ بات حکومت کو واضح کرنی چاہیے۔
دہشت گردی کے خلاف کانگریس کا مؤقف ہمیشہ دو ٹوک اور اٹل رہا ہے اور پارٹی نے اس جنگ کی سب سے بڑی قیمت مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی شہادتوں کی شکل میں چکائی ہے۔
تلک بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکے میں 6 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے، یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ، وزیر داخلہ آر آر پاٹل اور تفتیشی افسر ہیمنت کرکرے نے اس کیس کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے فیصلے کے پس منظر میں ان رہنماؤں اور افسران کی قربانیوں اور سنجیدہ کوششوں کو یاد کرنا لازمی ہے۔
سپکال نے سرکاری وکیل ایڈوکیٹ روہنی سالیان کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جنہوں نے 2016-17 میں کہا تھا کہ انہیں کیس کو آہستہ چلانے کو کہا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کہیں ان کے بیان کا اثر عدالتی فیصلے پر تو نہیں پڑا؟ اب جبکہ عدالت نے تمام ملزمان کو بری کر دیا ہے، یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ آخر یہ بم دھماکہ کس نے کیا؟ اگر سب بری ہو گئے تو کیا متاثرین کو انصاف نہیں ملے گا؟
سپکال نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف حکومت کا رویہ سخت اور غیر جانب دار ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی فائدے کے لیے دوہرا معیار اختیار کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جیسے ریلوے بم دھماکے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا، ویسے ہی مالیگاؤں کے معاملے میں بھی سپریم کورٹ کا رخ کیا جانا چاہیے۔ کانگریس صدر نے تاریخی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزاد بھارت کی سب سے پہلی دہشت گردی کی کارروائی مہاتما گاندھی کے قتل کی شکل میں ہوئی تھی، جسے ناتھورام گوڈسے نے انجام دیا تھا۔ اس معاملے میں سات ملزمان میں سے چھ کو سزا ہوئی، مگر ساورکر بری ہو گئے۔ حالانکہ کپور کمیشن کی رپورٹ نے ساورکر پر سنگین شبہات اور الزامات عائد کیے تھے۔
سپکال نے کہا کہ آج جن افراد کو عدالت نے بری قرار دیا ہے، اس پر عدالت کا فیصلہ اپنی جگہ، لیکن حکومت کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرین کے انصاف کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کرے۔ سپکال نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، ذات یا رنگ نہیں ہوتا۔ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے، اور اسے سخت ترین سزا ملنی چاہیے، تاکہ آئندہ ایسی کارروائیاں رک سکیں اور عوام کا اعتماد انصاف پر قائم رہے۔ کانگریس، اپنے تاریخی موقف کے مطابق، ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔