ڈاکٹر سَمپدا منڈے کی موت محض خودکشی نہیں بلکہ منظم قتل ہے: ہرش وردھن سپکال
راہل گاندھی نے متاثرہ خاندان سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے انصاف کی جدوجہد میں مکمل ساتھ دینے کی یقین دہانی کرا ئی
ڈاکٹر خودکشی معاملے میں ایس آئی ٹی کی تشکیل اور رنجیت سنگھ نائیک نمبالکر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ
تحقیقات شروع ہونے سے قبل ہی وزیر اعلیٰ فڑنویس کی جانب سے ملزم کو کلین چِٹ دینا افسوسناک
ممبئی/بیڑ: بیڑ کی نوجوان ڈاکٹر سمپدا منڈے کی المناک موت کو کانگریس نے سنگین سازش اور ظلم و جبر کے نتیجے میں ہونے والی ’قتل پر مبنی خودکشی‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی سپریم کورٹ کے حاضر جج کی نگرانی میں ایس آئی ٹی سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ رنجیت سنگھ نائیک نمبالکر کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کے بعد کیا ہے۔
ہرش وردھن سپکال نے آج کَوَڈگاؤں (بیڑ) پہنچ کر ڈاکٹر سمپدا کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں ہر ممکن انصاف دلانے کا یقین دلایا۔ اس موقع پر سابق وزیر اشوک راؤ پاٹل، یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چِب، مہاراشٹر خواتین کانگریس کی صدر سندھیا سوالاکھے، یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر شیو راج مورے، ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین، بیڑ ضلع کانگریس صدر راہل سونوونے سمیت دیگر لیڈران موجود تھے۔ اسی دوران کانگریس کے لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے بھی ڈاکٹر سمپدا کی والدہ اور اہل خانہ سے فون پر بات کی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ڈرئیے نہیں، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ کانگریس ہر محاذ پر آپ کے ساتھ کھڑی ہے اور انصاف کے لیے ہر ممکن حد تک جائے گی۔
ہرش وردھن سپکال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر سمپدا منڈے پر من مانی اور غیر قانونی کاموں کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور ان کے خلاف مسلسل ذہنی و پیشہ ورانہ استحصال کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رنجیت سنگھ نائیک نمبالکر کے خلاف پہلے بھی بدسلوکی کے کئی معاملات سامنے آ چکے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی انہیں کلین چٹ دے کر بے شرمی اور سیاسی مداخلت کی انتہا کر دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات پھلٹن کے باہر منتقل کی جائے اور کسی اعلیٰ عہدے پر فائز خاتون افسر کو انکوائری کی ذمہ داری دی جائے۔ سپکال نے واضح کیا کہ کانگریس اس مسئلے پر خاموش نہیں بیٹھے گی۔ دہلی میں یوتھ کانگریس نے مظاہرہ کیا ہے اور جلد ہی ریاست گیر تحریک چلائی جائے گی۔
سپکال نے خواتین کے تحفظ کے لیے قائم ریاستی کمیشن کی شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ متاثرہ خاندان سے ملاقات کیے بغیر پولیس اہلکاروں کے بیانات پر بھروسہ کرنا کمیشن کے کردار پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ کمیشن کا فرض ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کی نگہبانی کرے، نہ کہ طاقتوروں کی حمایت میں صف آراء ہو۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر سمپدا کے اپنے ہی سماجی حلقے کے منتخب نمائندے بھی خاموش ہیں۔ بیڑ میں ماضی کی بعض وارداتوں پر روزانہ بیان دینے والے حکمراں پارٹی کے لیڈران اب اپنی زبان بند رکھے ہوئے ہیں۔ پُنکجا منڈے کی خاموشی پر سوال کھڑا کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ انہیں وزیر اعلیٰ کے دباؤ سے آزاد ہو کر سچ کے لیے آواز اٹھانی چاہئے۔ ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ نرائن گڑھ اور بھگوان گڑھ کے مہنتوں کو بھی آگے آ کر انصاف کی اس لڑائی میں متاثرہ خاندان کا ساتھ دینا چاہئے تاکہ ڈاکٹر سمپدا منڈے کو انصاف مل سکے اور اس کے ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا مل سکے۔
MPCC Urdu News 29 October 25.docx