MPCC Urdu News 29 August 25

مراٹھا ریزرویشن دینے میں سیاسی عزم کی کمی، فڑنویس جی7 دن میں ریزرویشن دینے کا کیا ہوا؟ : ہرش وردھن سپکال
ممبئی کی آج کی صورتحال کے ذمہ دار فڑنویس سرکار،مراٹھا مظاہرین کو بدنام نہ کریں
ایکناتھ شندے نے مراٹھا سماج کو دیا ہوا وعدہ پورا نہیں کیا، ریزرویشن نہیں دے سکتے تو اقتدار سے الگ ہو جائیں

ممبئی: مراٹھا ریزرویشن دینے کے لیے سیاسی عزم چاہیے اور یہی بی جے پی اور دیویندر فڑنویس کے پاس نہیں ہے۔ یہ آج کا سوال نہیں بلکہ کئی برسوں سے چلی آ رہی یہ مانگ ہے۔ مراٹھا سماج کو دیا گیا ریزرویشن بی جے پی اور فڑنویس سرکار نے اس لیے گنوا دیا کیونکہ انہوں نے سپریم کورٹ میں امپریکل ڈیٹا پیش نہیں کیا۔ “اقتدار دیجئے، ہم سات دن میں مراٹھا ریزرویشن دیں گے“ یہ اعلان کرنے والے دیویندر فڑنویس کے وعدے کا کیا ہوا؟ سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی سرکار کو ریزرویشن کے نام پر صرف مراٹھا اور او بی سی سماج میں لڑائیاں کرانی ہیں۔ حکومت پر یہ سخت تنقید مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔
ریاستی کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال، کانگریس کے لیڈر اور کولہاپور کے رکن پارلیمنٹ شاہو مہاراج چھترپتی اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کلیان کالے نے تلک بھون میں پریس کانفرنس کر کے مراٹھا ریزرویشن تحریک پر کانگریس پارٹی کا موقف واضح کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ممبئی میں احتجاج کرنے کا اعلان مراٹھا سماج نے تین ماہ پہلے ہی کیا تھا، لیکن سرکار نے ان تین مہینوں میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اب مراٹھا سماج کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، پہلے اجازت نہیں دی گئی، پھر محض ایک دن کی اجازت دی گئی۔ ممبئی میں ٹریفک نظام سمیت بگڑتی ہوئی صورتحال کا حوالہ دیا جا رہا ہے لیکن دراصل اس صورتحال کی ذمہ دار خود بی جے پی سرکار ہے۔ تین مہینے تک سرکار سوئی ہوئی تھی، آج کے حالات کے لیے مراٹھا مظاہرین کو بدنام نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایکناتھ شندے جب وزیر اعلیٰ تھے تو انہوں نے مراٹھا سماج کے مظاہرین سے رات کو نوی ممبئی میں ملاقات کی تھی اور چھترپتی شیواجی مہاراج کے قدموں میں گر کر قسم کھائی تھی۔ انہوں نے جی آر نکالنے کا وعدہ کیا، ان کی گل پوشی کی گئی اور مراٹھا مظاہرین نے ان کے وعدے پر بھروسہ کر کے فاتحانہ انداز میں اپنے گاؤں لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن شندے کے اس وعدے کا کیا ہوا؟ مراٹھا سماج کو دوبارہ احتجاج کرنے پر کیوں مجبور ہونا پڑا؟ جبکہ ایکناتھ شندے آج بھی اقتدار میں ہیں، اگر وہ مراٹھا سماج کو دیا ہوا وعدہ پورا نہیں کر سکتے تو اقتدار سے الگ ہو جائیں۔ ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور اجیت پوار اکثر دہلی جاتے رہتے ہیں، تو اب مراٹھا سماج کے ریزرویشن کے لیے دہلی جائیں اور 50 فیصد ریزرویشن کی حد ختم کروا لائیں۔ ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے، یہ راہل گاندھی کا پرزور مطالبہ ہے۔ پہلے بی جے پی نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن آخر کار ذات پر مبنی مردم شماری کرنے کا فیصلہ کیا، مگر آج تک اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ کانگریس کی حکمرانی والے تلنگانہ اور کرناٹک نے مردم شماری کر لی ہے، ویسی ہی مہاراشٹر میں بھی کرنی چاہیے۔ اگر سرکار کو اس پر رہنمائی چاہیے تو ہم تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کو بلوا کر ریاستی حکومت کو بتائیں گے کہ ذات پر مبنی مردم شماری کیسے کی جاتی ہے۔
سپکال نے کہا کہ کانگریس اتحاد کی حکومت نے مراٹھا سماج کو ریزرویشن دیا تھا مگر فڑنویس سرکار اسے قائم نہ رکھ سکی۔ مراٹھا ریزرویشن کو کل بھی کانگریس کا ساتھ تھا اور آج بھی ہے۔ یہ سیاسی سوال نہیں بلکہ سماجی انصاف کا سوال ہے۔ چونکہ اقتدار میں بی جے پی اتحاد ہے اس لیے فیصلہ انہیں لینا ہے۔ راج دھرم کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے سرکار اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو مراٹھا سماج کو ریزرویشن دینا چاہیے، اگر یہ ان کے بس میں نہیں تو وہ اقتدار چھوڑ دیں، ہم اس مسئلے کو حل کریں گے۔

MPCC Urdu News 29 August 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading