MPCC Urdu News 28 March 25

وزیر اعظم نریندر مودی کی ‘سوغاتِ مودی’ یعنی ‘سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی’! : ہرش وردھن سپکال

ہر سال دو کروڑ روزگار، کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے اور 40 روپے لیٹر پٹرول کی ‘سوغات’ کا کیا ہوا؟

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کی جانب سے عید کے موقع پر 32 لاکھ مسلم خاندانوں میں ‘سوغاتِ مودی’ کے نام پر امدادی کِٹس تقسیم کرنے کا اعلان محض ایک نمائشی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو حکومت برسوں سے اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہو، ان کے مسائل کو نظر انداز کرتی رہی ہو، اور انہیں حکومتی عمل میں مناسب نمائندگی سے محروم رکھا ہو، وہ اب محض ایک علامتی ’سوغات‘ دے کر خود کو اقلیت دوست ثابت نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اقدام ‘سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی’ کے مترادف ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ 2014 کے عام انتخابات میں نریندر مودی نے بڑے بڑے وعدے کیے تھے، جن میں ہر سال دو کروڑ نوکریاں فراہم کرنے، کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے، زرعی اجناس کے دام ڈیڑھ گنا بڑھانے، بیرون ملک سے کالا دھن واپس لا کر ہر بھارتی کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے جمع کرنے، اور پٹرول کو 40 روپے جبکہ ڈیزل کو 35 روپے فی لیٹر کرنے جیسے دعوے شامل تھے۔ تاہم، ایک دہائی گزرنے کے باوجود عوام آج بھی ان وعدوں کی تعبیر کا انتظار کر رہی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ برسوں میں بی جے پی اور اس کی نظریاتی تنظیموں کے رہنماؤں کی جانب سے اقلیتوں کے خلاف متعصبانہ بیانات دیے گئے، انہیں ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز کیا گیا، اور حکومتی سطح پر ان کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کیا گیا۔ ایسے میں عید کے موقع پر امدادی کِٹس تقسیم کرنے کا اقدام محض ایک دکھاوا ہے۔ ہرش وردھن سپکال نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نمائشی سیاست چھوڑ کر عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرے اور ملک کے تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کو یقینی بنائے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading